عراق: آزاد کردستان کے لیے ریفرینڈم کرانے کا منصوبہ

کرد رہنما مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ کردوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکرد رہنما مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ کردوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے

عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے رہنما نے کہا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں اپنے علاقے میں ایک آزاد ملک کے لیے ریفرینڈم کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

عراق کے کرد رہنما مسعود بارزانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق حقیقتاً پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہے اور کرد حالیہ بحران میں عراق کے سیاسی حل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انھوں نے کرد علاقوں کی آزادی کو اپنا فطری حق قراردیا۔

گذشتہ مہینوں کے دوران سنّی باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں عراقی افواج نے شمالی شہروں کو خالی کر دیا ہے اور اب ان علاقوں پر سنی باغیوں کا قبضہ ہے جو خود کو دولت اسلام عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) کہتے ہیں اور انھوں نے اپنے کنٹرول والے علاقے میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

کُرد جنگجو داعش کے خلاف ہیں۔

داعش کی پیش رفت سے کردوں کو ان علاقوں میں جانے کا موقع مل گیا ہے جو پہلے متنازع علاقے کہلاتے تھے۔ ان میں تیل سے مالامال کرکوک کا علاقہ بھی شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کردوں کی طویل عرصے سے الگ آزاد ملک کی خواہش تھی لیکن یہ شام، ترکی، ایران اور عراق میں منقسم ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمبصرین کا کہنا ہے کہ کردوں کی طویل عرصے سے الگ آزاد ملک کی خواہش تھی لیکن یہ شام، ترکی، ایران اور عراق میں منقسم ہیں

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے بھی عراق میں سنی جنگجوؤں کی کامیابیوں کے بعد کردستان کے خودمختار اور آزاد ملک کے قیام کی بات کی تھی۔

تل ابیب میں ایک خطاب کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’کرد جنگجوؤں کی قوم ہے انھوں نے اپنے سیاسی عہد کی پاسداری کا ثبوت دیا ہے اور وہ آزادی کے مستحق ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے مسعود بارزانی نے ایک امریکی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’اب وقت آ چکا ہے کہ کردستان کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ کردوں کی ایک طویل عرصے سے الگ آزاد ملک کی خواہش تھی لیکن یہ شام، ترکی، ایران اور عراق میں منقسم ہیں۔ بین الاقوامی برادری بشمولِ ترکی اور امریکہ عراق کی تقسیم کے خلاف ہیں۔

برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ولیم ہیگ نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عراق میں سیاسی اتحاد کی اپیل کی تھی تاکہ ملک کو درپیش خطرے سے نپٹا جا سکے۔

ان کے مطابق: ’عراق کے تمام عناصر کی جانب سے مضبوط سیاسی تعاون سے ہی سکیورٹی آپریشن کام کر سکے گا۔‘