’ایران عراق کی جیٹ طیاروں کے ذریعے مدد کر رہا ہے‘

ماہرین کے مطابق جہازوں پر درج نشانات، سیریل نمبر اور کیموفلاج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایرانی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق جہازوں پر درج نشانات، سیریل نمبر اور کیموفلاج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایرانی ہیں

ٹھوس شواہد سے پتہ چلا ہے کہ ایران نے عراق کو داعش نامی سنی باغیوں کی تنظیم کے حملوں سے نمٹنے کے لیے جیٹ طیارے فراہم کیے ہیں۔

اس سے پہلے روس نے بھی کچھ دن قبل عراق کو ہوائی جہاز دیے تھے۔ تاہم لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طیاروں کی تازہ کھیپ ایران نے فراہم کی ہے۔

امریکہ نے بھی عراق کے لیے فضائی طیارے بھجوائے ہیں اور عراق کا تنازع امریکہ اور ایران کو ایک ساتھ لے آیا ہے۔

امریکہ نے عراق میں اپنے ڈرون اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے ہیں تاکہ داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات حاصل کی جا سکیں۔ واشنگٹن عراق کی فضائی فوج کو ہیل فائر میزائل بھی فراہم کر رہا ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایک تجزیہ کار جوزف ڈیمسی نے عراقی حکام کی جانب سے جاری کی گئی جہازوں کی ویڈیو کا بغور مشاہدہ کیا ہے۔

داعش نے عراق اور شام کے اپنے قبضے والے علاقے میں اسلامی ریاست کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنداعش نے عراق اور شام کے اپنے قبضے والے علاقے میں اسلامی ریاست کا اعلان کیا ہے

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ عراق میں زیرِ استعمال بعض طیارے جن میں Sukhoi Su-25 شامل ہے یقیناً ایرانی ساختہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تصاویر کے مشاہدے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ جہازوں پر درج نشانات، سیریل نمبر اور کیموفلاج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایرانی ہیں۔‘

ایران میں Su-25 کے بہت کم طیارے ہیں اور یہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے زیرِ استعمال رہے ہیں۔

ان جہازوں کی ایک بڑی تعداد عراقی فضائیہ کے زیرِ استعمال رہی ہے تاہم پہلی جنگِ خلیج کے بعد یہ ایران آ گئے۔ یقیناً یہ بتانا مشکل ہے کہ جہاز اڑا کون رہا ہے۔

تجزیہ کار جوزف ڈیمسی کا کہنا ہے کہ ’عراق میں شاید اب بھی اسے اڑانے کی قابلیت ہو کیونکہ اس نے ماضی میں اسے استعمال کیا ہے تاہم کسی بھی پائلٹ کا پچھلے 11 برس سے اسے اڑانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ کسی حد تک بیرونی مدد درکار ہو گی۔‘

ادھر عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے خبردار کیا ہے کہ داعش کی طرف سے ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

داعش نے عراق اور شام کے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلامی ریاست کا اعلان کیا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ وہ اسی قبیلے کے ان جنگجوؤں کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار ہیں جو جدوجہد میں شدت پسندوں کے ساتھ شریک تھے، بشرطیکہ وہ کسی خون خرابے میں شامل نہ رہے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہOther

تجزیہ کار ڈیمسی کا کہنا ہے کہ بظاہر ایران نے طیاروں پر سے شواہد مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ جہاز ایرانی ہیں

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنتجزیہ کار ڈیمسی کا کہنا ہے کہ بظاہر ایران نے طیاروں پر سے شواہد مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ جہاز ایرانی ہیں