’امریکہ عراق میں ڈرون طیارے استعمال کرے گا‘

عراق میں سنی جنگجوؤں کے خلاف عراقی فوج کی امداد کے لیے تعینات کی جانے والی ان کی پہلی فوجی کھیپ عراق پہنچ گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراق میں سنی جنگجوؤں کے خلاف عراقی فوج کی امداد کے لیے تعینات کی جانے والی ان کی پہلی فوجی کھیپ عراق پہنچ گئی ہے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی عسکری مشیروں کی حفاظت کے لیے مسلح امریکی ڈرون طیارے ملک کی فضائی حدود میں پرواز کریں گے۔

عراق میں شدت پسند گروہوں کی جانب سے ملک کے شمالی علاقے میں متعدد قصبوں پر قبضے کے بعد امریکی اہلکار عراقی فوج کی مدد کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

یہ ڈرون طیارے روزانہ تقریباً 30-40 پروازیں کریں گے جن کا مقصد مختلف علاقوں کی نگرانی کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں عراق میں اہم ترین شیعہ رہنما نے وزیراعظم کی تعیناتی میں جلدی کرنے کا کہا تھا۔ آیت اللہ سستانی کا کہنا تھا کہ منگل کو نئی پارلیمان کے اجلاس سے قبل حکومتی عہدے پُر ہونے چاہیئیں۔

دنیا بھر سے عراق میں ایک قومی اتحادی حکومت کی تشکیل کے مطالبے سامنے آئے ہیں تاہم مختلف سیاسی گروہ اس قسم کا معاہدہ نہیں کر سکے ہیں۔

ادھر عراق کے حکام نے گذشتہ روز تصدیق کی کہ شام کے جنگی طیاروں نے اس کی حدود میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔

عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے کہا کہ جنگی طیاروں نے سرحدی قصبے قائم میں منگل کو شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

انھوں نے واضح کیا کہ عراق نے ایسی کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا تھا، تاہم اسلامی شدت پسند گروہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے خلاف کسی بھی کارروائی کا ’خیرمقدم‘ کیا جائے گا۔

داعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے عراق کی مغربی سرحد پر اردن اور شام کی سرحدی چوکیوں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ اسے فوری طور پر فضائی امداد فراہم کی جائے۔

سرحدی چوکیوں پر قبضے کے بعد یہاں حکومت کی عمل داری بظاہر ختم ہو گئی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق باغیوں نے انبار صوبے میں دو چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

داعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنداعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے

باغیوں نے گذشتہ دنوں میں عسکری اہمیت کے حامل اہم قصبوں پر قبضہ کیا ہے جو سنی اکثریت کے صوبے انبار میں واقع ہیں۔ ان میں قائم، رطبہ، رواہ اور عناہ شامل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف سیاست دانوں اور سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ جس طرح سرکاری فوجیں شدت پسندوں کے خلاف بے بس نظر آ رہی ہیں اس پر بغداد میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شدت پسندوں کے جنگجو سرکاری فوجیوں سے بہتر تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس نہ صرف لڑنے کا بہتر تجربہ ہے بلکہ ان کے پاس فوج سے بہتر اسلحہ بھی موجود ہے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام لگتا رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق و شام میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔