’عراقی فوج نے 255 سنی قیدیوں کا قتل کیا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انسانی حقوق کی ایک سرکردہ تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز اور حکومت کے اتحادی جنگجوؤں نے نو جون سے اب تک کم از کم 255 قیدیوں کو قتل کر دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں بظاہر دولت اسلامی عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) کے حملوں کا جواب نظر آتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام کے تمام قیدی سنی مسلمان تھے جبکہ سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کی اکثریت شیعہ ہے۔
دریں اثنا عراق کے کردوں نے شمالی عراق میں دو تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ داعش جنگجوؤں کے بڑھتے قدم کے نتیجے میں بھاگتی ہوئی عراقی فوج نے زیادہ تر قیدیوں کا قتل کیا ہے۔
یہ ہلاکتیں عراق کے چھ قصبوں موصل، تلعفر، بعقوبہ، جمارخی، راوۃ اور ہلۃ میں سامنے آئی ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ماورائے عدالت قتل عام جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد ہیں اور بظاہر داعش کے ظلم و جبر کے بدلے کی کارروائی نظر آتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ مہینے داعش نے شمال مغرب کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور یہ گروہ اپنے قبضے والے علاقے میں جابرانہ حکومت کے لیے مشہور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیومن رائٹس واچ نے بیان میں کہا کہ انھوں نے حکام اور عینی شاہدین کے ساتھ انٹرویوز کے بعد یہ فہرست تیار کی ہے اور ’یہ جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد ہو سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ عراق میں جاری حالیہ جنگ میں فرقہ وارانہ رنگ بہت گہرا ہے۔ شیعہ کی سربراہی والی عراقی افواج کو داعش کے سنی جنگجوؤں اور دوسرے سنی جنگجوؤں سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
اسی دروان یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ عراقی کردوں نے حکومت کے ساتھ بڑھتے تنازعوں کے درمیان شمال میں بائی حسن اور کرکوک کے تیل کے کنویں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
عراق کی وزارت تیل نے اس قبضے کی مذمت کی ہے۔







