داعش کی خلافتِ ’جہادستان‘ بننے سے کتنی دور؟

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, نامہ نگار برائے سکیورٹی امور، بی بی سی نیوز
کیا دولت اسلامی عراق و شام (داعش) جیسی ایک چھوٹی مگر خوفناک حد تک جہادی تنظیم عراق اور شام کے ان وسیع علاقوں پر اپنی حکومت بھی قائم کر سکتی ہے جنھیں اس نے گذشتہ کچھ عرصے میں بڑی تیزی کے ساتھ فتح کیا ہے؟
جون کے پہلے ہفتے سے داعش نے مشرقی شام میں اپنے گڑھ سے نکل کر عراقی کے دوسرے بڑے شہر موصل کی جانب پیش قدمی شروع کی اور جلد ہی اس پر قبضہ کر لیا۔
داعش یا دولت اسلامی کے جنگجو موصل میں رکے نہیں بلکہ وہ وادیِ فرات میں اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے بغداد کے نواح تک پہنچ گئے۔
دولت اسلامی نے جس جس قصبے پر قبضہ کیا وہاں اس کے سر تا پاؤں سیاہ کپڑوں میں ملبوس جنگجوؤں نے اپنی طرز کے اسلامی قوانین لاگو کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی، جس نے ہزاروں مقامی لوگوں کو دوسرے مقامات پر جا کر پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر قبضہ کر لینا ایک بات ہے، اور وہاں حکومت قائم کرنا بالکل الگ بات ہے۔ لیکن اگر آپ شام اور عراق دونوں ریاستوں کو درپیش اندرونی مسائل کو کمزوریوں کو مد نظر رکھیں تو یہی لگتا ہے کہ دولت اسلامی کے قدم اکھاڑنا اتنا آسان بھی نہیں رہا۔
تو کیا دولت اسلامی واقعی اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں اپنی وہ حکمرانی قائم کرنے کے قابل ہو گئی ہے؟
صاف ظاہر ہے اس کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں مقامی قبائل کی مدد، معاشی اہلیت، ایندھن اور پانی تک رسائی کے علاوہ یہ بھی شامل ہے کہ لوگ اس تنظیم اور اس کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی مذہبی اتھارٹی کو مانتے بھی ہیں یا نہیں اور یہ بھی کہ دولت اسلامی نے ٹانگیں چادر سے باہر تو نہیں پھیلا لیں۔
قد سے اونچی چھلانگیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
خوف اور بندوق کے امتزاج سے اب تک دولت اسلامی بہت ہی کم وقت میں اپنی عسکری دھاک بٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر انھیں کچل بھی دیا جاتا ہے، تب بھی جنگی تاریخ دان دولت اسلامی کو یاد ضرور رکھیں گے کہ اس تحریک نے کس طرح ایک نفسیاتی جنگ کے ذریعے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپنے دشمنوں کے بہیمانہ قتل کی تصویریں اور ویڈیو جھلکیاں دکھا کر اپنے مخالفین کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔
گذشتہ ماہ جاری کی جانے والی وہ ویڈیوز اور ان کی خوفناک کمنٹری عراقی فوجیوں کے لیے کافی تھی کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں جن میں دولت اسلامی کے جنگجوؤں کو اپنے مخالفین کے سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔
لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اب تک دولت اسلامی والے اپنے قد سے اونچی چھلانگیں لگاتے رہے ہیں۔
عراق کی القاعدہ کی باقیات سے جنم لینے والے گروہ داعش نے جب جون میں مغربی عراق کے علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو اس وقت بھی ان کے پاس دس سے 15 ہزار سے زیادہ جنگجو نہیں تھے۔
کہا جاتا ہے کہ داعش کے جن جنگجوؤں نے موصل پر قبضہ کیا ان کی کل تعداد 800 سے زیادہ نہیں تھی، لیکن میرے خیال میں یہ تعداد صرف ان جنگجوؤں پر مشتمل تھی جو پہلے دن موصل میں داخل ہوئے اور انھوں نے مقامی لوگوں پر ہیبت طاری کر دی۔

دولت اسلامی کی اصل خوش بختی یہ ہے کہ اسے اب تک مقامی قبائل اور دوسرے جنگجوگروہوں کی حمایت اور مدد حاصل رہی ہے۔ اس مدد کے بغیر وہ موصل جیسے 20 لاکھ کی آبادی کے بڑے شہر کو اپنے قابو میں رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
عرب دنیا کے مشہور اخبار شرق الاوسط میں نائب مدیر اور موصل سے تعلق رکھنے والی مِنا الاورابی کا کہنا ہے کہ ’دولت اسلامی مختلف قصبوں اور شہروں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں اس لیے کامیاب ہے کہ وہاں اس کی ’حکومت‘ ان مقامی جنگجوؤں کے ہاتھ میں ہے جنھیں اس کی حمایت حاصل ہے۔
’مقامی قبائل اور گروہوں کے ساتھ کچھ معاہدے تو خوف کی بنیاد پر ہوئے جبکہ دیگر معاہدوں کے پیچھے دونوں فریقوں کے عارضی مفادات ہیں اور کبھی کبھی عارضی معاہدے کی بنیاد صرف اور صرف پیسہ ہوتا ہے۔‘
لیکن اگر دولت اسلامی کو زیرِ تسلط علاقوں پر اپنا کنٹرول زیادہ عرصے تک قائم رکھنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہو جائے گا کہ وہ عارضی معاہدوں پر زیادہ تکیہ نہ کرے بلکہ دولت اسلامی کی اپنی ریاست بنانے میں ’سرمایہ کاری‘ کرے۔
غلطیوں سے سیکھنا

،تصویر کا ذریعہReuters
آخری مرتبہ جب جہادیوں نے عراق کے قابل ذکر حصے پر کافی عرصے تک اپنی حکومت قائم کی، یہ وہ وقت تھا جب سنہ 2006 میں دولت اسلامی کی ایک پیشرو تنظیم نے صوبہ انبار میں اپنی ریاست بنا لی تھی اور پھر جلد ہی خود اس کا بیڑا غرق کر دیا۔
اردن کے جہادی ابو منصب الزرقاوی کی کرخت اور ظالمانہ رہنمائی میں قائم ہونے والی اس ریاست نے جلد ہی مقامی آبادی کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔
ابو منصب الزرقاوی کے جہادی ساتھیوں نے ان سُنی مذہبی رہنماؤں کے سر قلم کرنے شروع کر دیے تھے جو الزرقاوی کے ہاتھ ہر بیعت سے انکار کر رہے تھے اور اس کے ساتھ انھوں نے خانہ جنگی کرانے کی غرض سے شیعہ مساجد کو تباہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جسے سگریٹ پیتا دیکھتے تھے اس کی انگلیاں کاٹ دیتے تھے کہ سگریٹ پینا غیر اسلامی ہے۔
ان حرکات سے وہ اسلامی ریاست لوگوں کے دل و دماغ جیتنے میں ناکام رہی تھی۔
اُس وقت پاکستان میں موجود القاعدہ کے رہنما بھی چیخ پڑے تھے کہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنانا بند کریں۔ لیکن الزرقاوی نے اس تنبیہ پر کان نہیں دھرے تھے۔
پھر آخر کار اردن کے خفیہ اداروں نے الزرقاوی کو ڈھونڈ لیا اور انھیں ایک امریکی فضائی حملے میں مار دیا گیا جبکہ مقامی قبائل نے ان کے جہادی ساتھیوں کو امریکہ کی ’مدد‘ سے علاقے سے نکال باہر کیا۔
اس واقعے کے آٹھ برس بعد دولت اسلامی کے جہادی نہ صرف انبار میں واپس آ چکے ہیں بلکہ انھوں نے وزیرِاعظم نوری المالکی کی شاہکار بدعنوانیوں کا پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ وہی نوری المالکی ہیں جنھوں نےگذشتہ سال فلّوجہ میں ایک احتجاجی کیمپ پر فوج چڑھا دی تھی۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دولت اسلامی نے اپنی پیشرو اسلامی ریاست کی ناکامیوں سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں؟
شام کا شمال مشرقی شہر رقہ مئی 2013 سے دولت اسلامی کے قابو میں ہے، اور اگر آپ یہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھیں گے تو ان کا کہنا یہی ہے کہ دولت اسلامی نے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔
رقہ میں ایسی کہانیاں عام ہیں کہ دولت اسلامی نے کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو شدید ترین سزائیں دیں، خواتین کو گھروں میں قید کر کے رکھ دیا، عوامی مقامات پر لوگوں کے سر قلم کیے اور کس طرح دولت اسلامی کے دور میں اغوا برائے تاوان اور کاروباری لوگوں سے زبردستی غیر قانونی ٹیکس وصول کیے گئے۔
شاید اسی لیے اس سال فروری میں القاعدہ کے بچے کھچے رہنماؤں نے بھی دولت اسلامی کو نہ صرف ایسی حرکات پر ڈانٹ پلائی بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس تنظیم کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تیل پانی

،تصویر کا ذریعہAP
لیکن دولت اسلامی کی ریاست کے دیگر لوگ کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ دولت اسلامی شہر میں کوڑا اٹھانے اور صفائی کا معیاری نظام لے آئی ہے اور نہ صرف شہر کی گلیاں محلے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں بلکہ غریب لوگوں میں تیل اور کھانے کی تقسیم کا ایک فراخدلانہ نظام بھی وجود میں آ چکا ہے۔
یہ سب کچھ سُنا سُنا سا لگتا ہے۔
سنہ 1994 میں افغانستان میں طالبان کا آغاز بھی کچھ ایسا ہی تھا، جس کی بنیاد پر وہ دھیرے دھیرے ملک کے زیادہ علاقوں میں پھیل گئے تھے۔ پھر 11 ستمبر کے حملوں نے امریکہ کو اُکسا دیا اور طالبان کے خلاف ایسی مہم چلی کہ سنہ 2001 میں وہ اقتدار سے باہر نکال دیے گئے۔
مذہب کے لبادے میں لپٹی ہوئی دولت اسلامی جیسی تنظیم کے حق میں جانے والی باتوں میں سب سے بڑی بات یہ ہے اس کا تقابل عراق کی جس سیکیولر حکومت سے کیا جاتا ہے وہ نہ صرف عام لوگوں کو ضروری سہولتیں دینے میں ناکام ہو رہی ہے بلکہ اس کی مبینہ بدعنوانیوں کی کہانیاں بھی عام ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
’خلافت‘ تو دور کی بات ہے، ایک کامیاب ریاست بننے کے لیے بھی دولت اسلامی کو تیل اور پانی دونوں کی ضرورت ہو گی اور یہ دونوں چیزیں ان کے پاس ہیں۔
شام میں تیل سے مالا مال دیرالزور کا علاقہ دولت اسلامی کے قابو میں ہے، جس میں العمار کے تیل کے سب سے بڑے کنویں بھی شامل ہیں اور اطلاعات کے مطابق دولت اسلامی وہاں سے تیل فروخت کر رہی ہے اور اس کے خریداروں میں تنظیم کی دشمن بشارالاسد کی حکومت بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ شام کا سب سے بڑا ڈیم ’طبقہ ڈیم‘ بھی دولت اسلامی کے قبضے میں ہے جو ’اسد جھیل‘ پر بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب عراق میں نہ صرف فلّوجہ ڈیم ان کے قبضے میں آ چکا ہے، بلکہ مبینہ طور پر ’بیجی‘ کے مقام پر واقع عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری بھی دولت اسلامی کے قابو میں ہے۔
دنیا کے اُس علاقے میں کہ جہاں اہم ترین چیزیں پانی اور تیل ہیں، دولت اسلامی کو اطمینان ہے کہ اس کی پوزیشن مضبوط ہے۔
جہادستان؟

،تصویر کا ذریعہAFP
ہم اگر اس وقت اس بحث کو ایک طرف رکھ بھی دیں کہ آیا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مسلم اُمہ دولت اسلامی کے خود ساختہ خلیفہ کو مانتی ہے یا نہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقِ وسطیٰ کا ایک بڑا حصہ دولت اسلامی کے زیر تسلط آ چکا ہے اور یہ کنٹرول آسانی سے ختم ہونے والا نہیں۔
دولت اسلامی نے اپنی جڑیں اتنی پھیلا لی ہیں کہ اب نہ تو شام میں صدر اسد کی فوجیں اور نہ ہی عراقی حکومت کی فوجیں اکیلے اس سے وہ علاقے چُھڑا سکتی ہیں جن پر اس کے جنگجو قبضہ کر چکے ہیں۔
شامی فضائیہ کے حملوں سے کچھ اثر تو پڑے گا، اور اسی طرح عراق کے نئے جنگی جہاز سکوئی-25 اور امریکہ اور ایران کی مدد سے بھی دولت اسلامی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن آخری فیصلہ اسی پر ہوگا کہ زمین پر قبضہ کس کا ہے۔
واحد طاقت جو دولت اسلامی کو مستقل طور پر وہاں سے نکال سکتی ہے وہ ان علاقوں کے مقامی قبائل ہیں۔ لیکن اگر شام میں خانہ جنگی جاری رہتی ہے اور بغداد میں بیٹھی ہوئی شیعہ اکثریتی حکومت بھی کسی دوسرے کو حکومت میں شامل نہیں کرتی، تو قبائل کو کیا پڑی ہے کہ وہ دولت اسلامی کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔
اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک ایسی عسکری تنظیم جو متشدد، انتہا پسند، پوری طرح مسلح، دولت سے مالا مال اور مذہبی لحاظ سے قوت برداشت سے عاری ہے، مشرق وسطیٰ کی سرزمین کا مستقل حصہ بننے جا رہی ہے۔ ایک قسم کا ’جہادستان‘ وجود میں آ چکا ہے۔
بات یہاں رُک جائے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP
ایسا لگتا نہیں۔گذشتہ برس کے آخر تک دولت اسلامی کے ماننے والوں کا یہی کہنا تھا کہ ان کا مقصد ایسی خلافت قائم کرنا ہے جو سپین سے لیکر آسٹریا اور چین تک پھیلی ہو گی۔
اگر داعش کی ریاست انھی علاقوں تک محدود رہتی ہے جن پر یہ قبضہ کر چکی ہے، تب بھی امکان یہی ہے کہ یہاں سے نہ صرف اردن اور لبنان پر حملے کیے جائیں گے، بلکہ برطانیہ سمیت دوسرے مغربی ممالک سے نوجوان جہادی یہاں کھچے چلے آئیں گے۔
کنگز کالج لندن سے منسلک شامی جہاد کے ماہر شیراز مہر کہتے ہیں کہ دولت اسلامی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کوئی بھی مربوط کوشش نہیں کی جا رہی۔
’یہ بات اتنی اہم نہیں ہے کہ داعش نے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ ہم اس سے پہلے دیکھ چکے ہیں کہ جہادی تنظیمیں اس میں کامیاب ہوتی رہی ہیں، مثلاً افغانستان، پاکستان، افریقہ اور ماضی قریب میں افریقی ملک مالی میں بھی جہادی ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
’لیکن ان تمام مقامات پر حکومتوں نے مغرب کی مدد سے جب کارروائیاں کیں تو جہادیوں کا زور ٹوٹ گیا۔ یہ وہ بات ہے جو آج نظر نہیں آ رہی۔ شام اور عراق دونوں ہی ناکام ریاستیں ہیں اور دونوں کی افواج غیر موثر ہیں اور مغرب کے پاس بھی مداخلت کی ہمت نہیں رہی۔‘
شیراز مہر کا کہنا ہے کہ ’آنے والے دنوں میں لگتا یہی ہے کہ داعش اپنی جگہ پر قائم رہے گی اور امریکی ریاست پینسلوینیا جتنا رقبہ ان کے کنٹرول میں رہے گا۔‘
لیکن منا الاورابی کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اطلاعات یہی ہیں کہ مقامی جنگجوؤں اور داعش کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں توڑ پھوڑ شروع ہو چکی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دولت اسلامی صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ وہ اندھا دھند طاقت استعمال کرتی رہے یا یہ خوف برقرار رکھے کہ وہ جب چاہے طاقت استعمال کر سکتی ہے۔‘







