سنوڈن مفرور ہیں، وطن واپس آ جائیں:جان کیری

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے سیکریٹری خارجہ نے انٹیلیجنس کے راز فاش کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو مفرور قرار دیتے ہوئے اسے ملک واپس آنے کا کہا ہے۔
جان کیری نے کہا کہ اگر ایڈورڈ سنوڈن ’امریکہ پر یقین رکھتے ہیں تو انھیں امریکی انصاف کے نظام پر اعتماد کرنا چاہیے۔‘
امریکی سیکریٹری خارجہ نے یہ بات سنوڈن کی طرف سے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے تناظر میں کہی ہے جس میں سنوڈن نے کہا کہ انھوں نے روس میں اس لیے پناہ لی کیونکہ امریکہ نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا تھا۔
تیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ الیکٹرانک جاسوسی کے ماہر جاسوس تھے نہ کہ ایک کم درجے کے اہلکار۔
جان کیری نے بدھ کو کہا کہ ’ایک محبِ وطن بھاگتا نہیں۔ اگر سنوڈن واپس آنا چاہتے ہیں تو ہم آج ان کو ہوائی جہاز کے ذریعے واپس لے آئیں گے۔‘
انھوں نے نیشنل سی آئی اے اور سکیورٹی ایجنسی کے سابق اہلکار کو ’کنفیوز‘ یا ذہنی الجھاؤ کا شکار شخص قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس شخص نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔‘
سیکریٹری خارجہ نے یہ باتیں این بی سی پر سنوڈن کی انٹرویو نشر ہونے سے چند گھنٹے پہلے کہی۔
اس انٹرویو کے پہلے جاری کیے گئے کچھ حصوں میں ایڈ ورڈ سنوڈن نے اس بات کو دہرایا کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے لیے بیرون ملک خفیہ مشنز پر تعینات رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ امریکہ انسانوں کی بہ نسبت کمپیوٹرز کے ذریعے زیادہ بہتر خفیہ معلومات حاصل کرتا ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2013 میں تیس سالہ سنوڈن امریکہ سے بھاگ گئے تھے اور آج کل وہ روس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
پچھلے سال انھوں نے این ایس اے کی خفیہ دستاویزات مختلف اخبارات کو دیے جن میں واشنگٹن پوسٹ اور گارڈیئن میں شامل ہیں۔
انٹرویو میں سنوڈن نے کہا کہ وہ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہیں۔ ’میں نے بیرون ملک خفیہ طور پر کام کیا اور مجھے ایک فرضی نام بھی دیا گیا تھا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک تکنیکی ماہر تھے اور ان کا کام لوگوں کو جاسوسی کے لیے بھرتی کرنا نہیں تھا۔
’میرا کام امریکہ کے لیے نظام مرتب کرنا تھا۔ اور یہ کام میں نے نیچے سے لے کر اوپر تک تمام سطح پر کیا ہے۔ اب امریکی حکومت اس کی تردید کرے اور کہے کہ ہاں یہ ایک نچلے درجے کا اہلکار تھا۔‘
سنوڈن نے مزید کہا کہ انھوں نے سی آئی اے اور این ایس اے کے لیے کام کیا ہے اور ڈیفنس اینٹیلیجنس ایجنسی میں لیکچر بھی دیے۔
ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ میں جاسوسی کے الزامات کا سامنا ہے لیکن انھیں روس نے پناہ دی ہوئی ہے۔
تیس سالہ سنوڈن امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد رواں برس جون میں امریکہ سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے تھے۔
انہیں روسی حکام نے عارضی طور پر پناہ فراہم کی ہے اور وہ جولائی 2014 تک روس میں رہ سکتے ہیں۔







