’مشن کی تکمیل ہوئی اور میں جیت گیا‘

امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے راز افشا کرنے والے ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا ہے کہ ان کا مشن پورا ہوگیا ہے۔
سنوڈن نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا: ’جہاں تک ذاتی اطمینان کی بات ہے تو میں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ میں جیت گیا ہوں۔‘
تیس سالہ سنوڈن نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں امریکی اخبار کو انٹرویو دیا۔ واضح رہے کہ روس نے یکم اگست کو سنوڈن کو عارضی پناہ دی تھی۔
سنوڈن مئی میں امریکہ سے فرار ہوئے اور اپنے ساتھ خفیہ دستاویزات لےگئے تھے۔ امریکہ نے ان کے خلاف جاسوسی کا مقدمہ دائر کیا ہے۔
سنوڈن نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا:’جو بھی میں کرنا چاہ رہا تھا اس کی اس وقت توثیق ہوئی جب صحافی اپنا کام کرنے لگے۔ میں معاشرے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا تھا میں صرف معاشرے کو ایک موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ خود یہ فیصلہ کرے کہ وہ تبدیل ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔‘
سنوڈن نے مزید کہا:’میں صرف یہ چاہتا تھا کہ عوام یہ فیصلہ خود کرے کہ وہ کس طرح کی حکومت چاہتے ہیں۔‘
این ایس اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ ان کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آیا لوگ ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔
امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد ایڈورڈ سنوڈن رواں برس جون میں امریکہ سے فرار ہو کر روس پہنچ گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں روسی حکام نے عارضی طور پر پناہ فراہم کی ہے اور وہ جولائی 2014 تک روس میں رہ سکتے ہیں۔
30 سالہ ایڈورڈ سنوڈن نے ہزاروں کی تعداد میں امریکہ کی خفیہ دستاویزات افشا کی تھیں۔
برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی معلومات میں امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے فون اور انٹرنیٹ کی جاسوسی کے ضمن میں بڑے پیمانے پر انکشافات کیےگئے تھے۔
امریکہ میں ایڈورڈ سنوڈن پر سرکاری مواد چرانے، بغیر اجازت کے دفاعی معلومات فراہم کرنے اور خفیہ معلومات دانستہ طور افشا کرنے کے الزامات ہیں۔ ان میں سے ہر جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید ہے۔
امریکی اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی اور برطانوی کمپنیاں گوگل کی کوکیز کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں شائع کی گئی دستاویزات میں امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں این ایس اے اور جی سی ایچ کیو کی جانب سے بعض صارفین کی جاسوسی کے لیے گوگل کے نظام کو استعمال کرنے کی بات کی ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے مشتبہ افراد کی جاسوسی گوگل کے نظام کا فائدہ اٹھا کر کی۔







