’روزانہ 15 ارب موبائل فونز کی نگرانی‘

صارفین کی ذاتی معلومات کو موبائل فون میں موجود ’ٹیپ‘ کے ذریے حاصل کیا گیا
،تصویر کا کیپشنصارفین کی ذاتی معلومات کو موبائل فون میں موجود ’ٹیپ‘ کے ذریے حاصل کیا گیا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے ’این ایس اے‘ کو روزانہ 15 ارب موبائل صارفین کے محلِ وقوع کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

ان معلومات کی مدد سے این ایس اے کو لوگوں کا سراغ لگانے، اُن پر نظر رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملتی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کی ’ڈریگ نیٹ‘ نگرانی کی مذمت کی ہے اور این ایس اے کے جاسوسی کے اس منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ خبر اُس وقت سامنے آئی ہے جب مائیکروسافٹ نے انکرپشن بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ این ایس اے کے ہاتھوں اپنے صارفین کی جاسوسی روک سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این ایس اے کےاس جاسوسی کے پروگرام کی نوعیت پہلے سے موجود منصوبے سے خاصی سنگین ہے اور یہ صارفین کی ذاتی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اس پروگرام کے بارے میں معلومات ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے شائع ہونے والی دستاویزات میں موجود تھی۔

ان دستاویزات کے مطابق این ایس اے نے تقریباً 27 ٹیرا بائٹ تک معلومات حاصل کی تھیں جن کی جانچ پڑتال کرنا ایجنسی کے لیے بھی مشکل تھا۔ یہ عمل ایک کمپیوٹر سسٹم ’کو ٹریولر‘ کی مدد سے کیا گیا کیونکہ حاصل کردہ معلومات میں سے صرف ایک فیصد دہشت گردی کے خلاف مہم میں ایجنسی کے لیے مددگار ثابت ہوئیں۔

صارفین کی ذاتی معلومات کو موبائل فون میں موجود ’ٹیپ‘ کے ذریے حاصل کیا گیا اور موبائل نیٹ ورک کے ذریعے صارفین کے بدلتے مقامات کا بھی ریکارڈ لیا گیا۔ ان معلومات کے ذریعے این ایس اے اُن صارفین کا پتہ چلا سکتی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہے ہوں۔

امریکی شہری آزادی کی یونین کا کہنا تھا کہ اسے بغیر عوامی بحث کے شروع ہونے والے این ایس اے کے اس جاسوسی پروگرام پر گہری تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ اُن افراد کی جاسوسی کرے جن کے بارے میں انہیں شک ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں، نہ کہ اُن افراد کی جو بے قصور ہیں۔‘

مائکروسافٹ کے وکیل بریڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جاسوسی اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے جتنا بڑا مسئلہ کمپیوٹر وائرس یا سائبر حملے ہیں۔