سپین: ’امریکہ شہریوں کی نگرانی کی مکمل معلومات فراہم کرے‘

سپین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپین کےشہریوں کی نگرانی کی مکمل معلومات فراہم کرے۔ سپین کا مطالبہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے سپین کے چھ کروڑ باشندوں کے نگرانی کی تھی۔
سپین نے پیر کے روز امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اپنے شہریوں کی نگرانی کی مکمل معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سپین کے ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے سپین میں ایک مہینے میں چھ کروڑ فون کالز کی نگرانی کی ہے۔
امریکی سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک مبینہ جاسوسی پر پیدا ہونے والے شبہات دور کرے گا۔
<link type="page"><caption> ’جاسوسی‘ پر یورپی حکومتوں سے تعلقات متاثر ہوئے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131026_eu_germany_us_spy_update_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> امریکی ’جاسوسی‘ پر یورپ غصے میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131025_eu_france_germany_us_agreement_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
سپین کے وزیر نے کہا کہ اگر سپین کے چھ کروڑ شہریوں کی جاسوسی کی اطلاعات درست ہیں تو یہ انتہائی ’نامناسب اور ’ناقابل قبول‘ ہے۔
ادھر یورپی پارلیمان کے شہری آزادی کے کمیٹی کے ارکان امریکی کانگریس کے ارکان اور سکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے اہلکار امریکہ کی طرف سے یورپی رہنماؤں کی جاسوسی کے بارے میں اپنے خدشات سے آگاہ کریں گےاور وضاحتیں طلب کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا کی خبروں کے مطابق این ایس اے پر تازہ الزامات سابق امریکی جاسوس اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے افشا کی گئی دستاویزات کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔
رپورٹوں میں کہاگیا ہے کہ این ایس اے نے فون کرنے والوں اور فون وصول کرنے والوں کے فون نمبروں اور جگہوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں لیکن فون کال کے دوران کی گئی گفتگو کا متن اکٹھا نہیں کیا۔
وائٹ ہاؤس نے پیر کو سپین کے میڈیا میں سپین میں امریکی جاسوسی کے دعووں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ این ایس اے نے دسمبر سنہ 2012 اور آٹھ جنوری سنہ 2013 کے درمیان سپین کے شہریوں کی لاکھوں فون کالز، ایس ایم ایس پیغامات اور ای میل کی نگرانی کی۔
دریں اثنا جاپان کے خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ این ایس اے نے سنہ 2011 میں جاپان کی حکومت سے جاپان سے گزرنے والی فائبر آپٹک تاروں کی نگرانی میں مدد دینے کے لیے کہا تھا۔ یہ تاریں جاپان کے راستے ایشیا پیسیفیک خطے تک جاتی ہیں۔
کیوڈو خبررساں ادارے کی خبر میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد امریکہ کو چین کی جاسوسی کرنے کی اجازت دینا تھا لیکن جاپان نے قانونی مسائل اور عملے کی کمی کی وجہ سے اس سے انکار کیا۔
ادھر امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ادارے کے سربراہ نے جرمنی کی چانسلر کے موبائل فون کی جاسوسی کے بارے میں صدر اوباما کو کوئی بریفنگ دی تھی۔
نیشنل سکیورٹی ایجنسی یا این ایس اے کے ترجمان وینی وائنز کا کہنا ہے کہ این ایس اے کے سربراہ جنرل کیتھ ایلیگزینڈر نے کبھی بھی جرمنی کی چانسلر کے موبائل فون کی جاسوسی کے بارے میں صدر اوباما سے بات نہیں کی۔
جرمن میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ گذشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے اور صدر براک اوباما کو سنہ 2010 میں اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
میڈیا میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے این ایس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’صدر اوباما کو چانسلر میرکل کے موبائل کی مبینہ جاسوسی کی اطلاع کے بارے میں میڈیا میں رپورٹس بے بنیاد ہیں۔‘
تاہم ان کے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ صدر براک اوباما کو جاسوسی کے اس کارروائی کے بارے میں کوئی دوسرے ذرائع کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر براک اوباما نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو بتایا تھا کہ انھیں جاسوسی کے اس کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
جرمنی کے جریدے ڈا شپیگل کے دعوے کے مطابق امریکہ گذشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق سنہ 2010 میں امریکی صدر براک اوباما اس جاسوسی کے بارے میں بتایا گیا لیکن وہ اسے روکنے میں ناکام رہے۔
ڈا شپیگل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی وہ دستاویزات دیکھی ہیں جس میں سنہ 2002 میں آنگیلا میرکل کا موبائل فون نمبر موجود تھا جبکہ وہ تین برس بعد جرمنی کی چانسلر بنی تھیں۔
جریدے کے مطابق آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی جاسوسی سنہ 2013 میں بھی جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل کے موبائل کی جاسوسی کی نوعیت کیا تھی۔
جریدے کے مطابق مثال کے طور پر یہ ممکن ہے کہ چانسلر انگیلا میرکل کی بات چیت ریکارڈ کی جا رہی ہو یا پھر ان کے تعلقات کے بارے میں جانا جا رہا ہو۔
دوسری جانب اخبار سنڈے بلڈ نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے بتایا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کیتھ الیگزینڈر نے سنہ 2010 میں بذاتِ خود صدر براک اوباما کو آنگیلا میرکل کی جاسوسی کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔
اخبار نے این ایس اے کے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر براک اوباما نے جاسوسی کی اس کارروائی کو روکنے کے بجائے اسے جاری رہنے دیا۔







