مائیکل ہیڈن کا انٹرویو لیک کر کے ٹویٹ کر دیا

امریکہ کی خفیہ ایجنسی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ کے آف دی ریکارڈ انٹرویو کو ٹرین پر بیٹھے ایک مسافر نے سن کر ٹوئٹر پر لائیو نشر کر دیا۔
امریکہ کی خفیہ ایجنسی این ایس اے کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل مائیکل ہیڈن ایک تیز رفتار ٹرین پر بیٹھے نیویارک عازمِ سفر تھے اور ایک صحافی کو آف دی ریکارڈ انٹرویو دے رہے تھے کہ ان کے ساتھ کی نشستوں پر بیٹھے ایک مسافر نے ان کی باتوں کو سن سن کر ٹویٹ کرنا شروع کر دیا۔
ان مسافر کا نام ہے ٹوم مازی جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے آدھ گھنٹا تو انتظار کیا مگر اس کے بعد جو کچھ انہوں نے سنا اسے ٹوئٹر پر لکھنا شروع کر دیا۔
ان کی یہ ٹویٹس ’وائرل‘ ہو گئیں جس کا مطلب ہے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے ان کی ٹویٹس کو پڑھا اور پھر ری ٹویٹ کر کے آگے بڑھایا۔
یہ بات یہیں نہیں رکی بلکہ اس کے بعد نیوز ویب سائٹس اور رات کے ٹی وی شوز میں اس کا خوب چرچا ہوا۔
مائیکل ہیڈن کو اس صورتحال کے بارے میں تقریباً پندرہ منٹ میں بتا دیا گیا جس کے بعد انہوں نے ٹوم مازی کو انٹرویو دیا جو کہ ایک کمپنی ’ایتھیکل الیکٹرک‘ کے سربراہ ہیں۔
مازی نے اس کے بعد ٹویٹ کی کہ ’میری مائیکل ہیڈن کے ساتھ بہت اچھی گفتگو ہوئی وہ ایک شریف آدمی ہیں مگر ہم غیر متفق رہے۔‘
دونوں ایک تیز رفتار ٹرین پر جمعرات کی دوپہر واشنگٹن سے نیو یارک جا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مازی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ آٹھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے سنا اور ان کی ٹویٹ کہتی ہے کہ ’میں ایک ٹرین پر بیٹھا این ایس اے کے سابق سربراہ کی آف دی ریکارڈ سن رہا ہوں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں این ایس اے میں ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ میں پبلک میں ہوں‘۔
مازی سیاسی تحریک موو ڈاٹ اورگ کے سربراہ ہیں اور ایک دور میں انہوں نے امریکہ کی سربراہی میں عراق پر قبضے کی مخالفت میں تحریک چلائی تھی۔
انہوں نے مائیکل ہیڈن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار اس ٹویٹ میں کیا ’اس ٹرین میں ایک ماہوم سی سلفر کی بو ہے‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائیکل ہیڈن نے جب صدر اوباما کے بارے میں بات کی تو کہا کہ ان کا حوالہ حکومت کے ایک سینئر اہلکار کہہ کر دیا جائے۔
مائیکل ہیڈن نے کہا کہ انہوں نے صدر اوباما پر تنقید نہیں کی اور کہا کہ یہ سب بہت مشکل معاملات ہیں۔







