’امریکہ ویکسینیشن پروگرام کی آڑ میں جاسوسی نہیں کرے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty
وائٹ ہاؤس نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ امریکہ ویکسینیشن پروگراموں کی آڑ میں جاسوسی نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں اس حربے کو استعمال کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق 2011 میں سی آئی اے نے ایک پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مدد سے ایبٹ آباد میں ایک جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی تاکہ ڈی این اے کی مدد سے اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا جا سکے۔
صدر اوباما کی ایک سینیئر مشیر لیسا موناکو نے ایک خط میں 13 صحتِ عامہ کی جامعات کے سربراہان کو بتایا کہ سی آئی اے کے سربراہ جان برینن نے گذشتہ سال اہلکاروں سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی ویکسینیشن مہم کا عملی استعمال نہ کریں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی ایسے پروگراموں کے ذریعے ڈی این اے یا دیگر جینیاتی مواد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔
بیان کے مطابق یہ پالیسی امریکی اور غیر امریکی تمام لوگوں کے لیے لاگو ہوگی۔
پاکستان میں ان واقعات کے باعث انسدادِ پولیو مہم کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کو ختم نہیں کیا جا سکا۔
حال ہی میں حکومت ِ پاکستان نے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کو یکم جون سے ہوائی اڈوں پر پولیو کے قطرے پلانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حال ہی میں قبائلی علاقوں سے ملک کے دوسرے حصوں کی طرف آنے والے لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی میں فوج کو شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی سمیت ملک کے بعض شہروں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی کوششیں ادھوری رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں پولیو نے وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔
ان مہموں کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے 56 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔







