شکیل آفریدی کے معاملے میں ملوث کرانے پر تشویش ہے: ڈبلیو ایچ او

بیان کے مطابق عالمی ادارۂ صحت، صحت کے پروگراموں کے کسی بھی دیگر مقاصد کے لیے استعمال کی یکسر مذمت کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبیان کے مطابق عالمی ادارۂ صحت، صحت کے پروگراموں کے کسی بھی دیگر مقاصد کے لیے استعمال کی یکسر مذمت کرتا ہے

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے ملوث ہونے کی بات کئی گئی ہے۔

پیر کو عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جمعرات آٹھ مئی سنہ 2014 کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے بلائی گئی پریس کانفرنس کے دوران ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اقدامات میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے غلط طور پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا جس پر عالمی ادارۂ صحت کو سخت تشویش ہے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کے بیان میں اس بات کی دوبارہ تصدیق کی گی ہے کہ صحت کے تمام پروگرام، بشمول حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم، صرف اور صرف حفظانِ صحت کے مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں۔

بیان کے مطابق عالمی ادارۂ صحت صحت کے پروگراموں کے کسی بھی دیگر مقاصد کے لیے استعمال کی یکسر مذمت کرتا ہے۔

’عالمی ادارۂ صحت اس بات کو دہراتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حفظاتی ٹیکوں کی جعلی مہم اور عالمی ادارۂ صحت کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹھ مئی کو غلط بیان آنے کے بعد اقوامِ متحدہ نے حکومتِ پاکستان کے سامنے رسمی طور پر اس پر تنقید کی جنھوں نے یقین دہانی کرائی کہ دفترِ خارجہ کی ترجمان کا یہ بیان یکسر غلط ہے، جو غلطی سے جاری ہوا۔

عالمی ادارۂ صحت نے حکومتِ پاکستان کے بیان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یقین ہے کہ حکومت جلد ہی اس بیان کو واپس لے لے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور ان کے ساتھی ادارے بچوں کی صحت اور پولیو سے پاک دنیا کے لیے پولیو ختم کرنے کی مہم میں پاکستانی عوام اور حکومت کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے کا الزام ہے۔

خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نےگذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید اور تین لاکھ 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا۔

جبکہ دو ماہ قبل کمشنر ایف سی آر پشاور کی عدالت نے ان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی سزا مجموعی طور پر دس سال کم کر دی تھی۔