جان کا خطرہ: شکیل آفریدی کے وکیل مقدمے سے دستبردار

،تصویر کا ذریعہAFP
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر اس مقدمے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنیچر کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کا مقدمہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ دو برس تک ان کی پیروی کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیموں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ان کے لیے مزید یہ مقدمہ لڑنا ممکن نہیں رہا۔
سمیع اللہ آفریدی نے بتایا کہ کالعدم تنظیمیں شکیل آفریدی سے نالاں ہیں اور خیبر پختونخوا میں ’فضا ڈاکٹر صاحب کے خلاف ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں کچھ عرصہ مختلف حلقوں کی جانب سے آخری مہلت دی گئی تھی کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کر لیں: ’دو چار دنوں کی بات ہے کہ مجھے ڈیڈ لائن دی گئی کہ آپ ایک طرف ہو جائیں، فیصلہ کر لیں کہ آپ کو کس راستے جانا ہے۔ اگر کیس نہ چھوڑا تو نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔‘
تاہم انھوں نے یہ دھمکیاں دینے والے عناصر کا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ ’بعض لوگ جو ناخوش ہیں، نام تو وہ نہیں لے رہے کہ وہ کون ہیں۔ میرے آفس میں بھی لوگ دھمکیاں دیتے ہوئے آئے تھے۔‘
سمیع اللہ آفریدی نے کہا کہ حالات اب اتنے ناسازگار ہو گئے ہیں کہ وہ اب یہ مقدمہ نہیں لڑ سکتے۔

،تصویر کا ذریعہAP
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کے وکلا میں سے صرف وہ ہی مقدمے سے الگ ہوئے ہیں اور باقی وکیل دستبردار نہیں ہوئے اور وہ فاٹا ٹربیونل میں درخواست بھی دائر کریں گے: ’میرا کردار مرکزی تھا اس مقدمے میں اور اسی لیے مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔اس لیے میں کیس آگے نہیں بڑھا سکتا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ جان کے خطرے کے علاوہ امریکہ کے رویے پر بھی دلبرداشتہ ہیں کیونکہ ’ کمانڈنگ پوزیشن‘ میں ہوتے ہوئے بھی وہ فاٹا کے عوام کی بات نہیں کر رہا: ’امریکہ حکومت ِپاکستان پر شکیل آفریدی کے لیے تو دباؤ ڈال رہا ہے لیکن فاٹا کے ایک کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کی بات نہیں کر رہا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمیع آفریدی کو شکیل آفریدی کی وکالت پر ماضی میں بھی شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔
خیال رہے کہ ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کو وکلا کا تین رکنی پینل قانونی معاونت فراہم کر رہا ہے جن میں سمیع اللہ آفریدی کے دستبردار ہونے کے بعد اب دو وکلا رہ گئے ہیں جن میں قمر ندیم اور عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نےگذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید اور تین لاکھ بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا۔
دو ماہ قبل کمشنر ایف سی آر پشاور کی عدالت نے ان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی سزا میں مجموعی طورپر دس سال کمی کر دی تھی۔







