شکیل آفریدی پر ملک دشمن سرگرمیوں کا مقدمہ بنانے کا حکم

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر ایک اور مقدمہ بھی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شکیل آفریدی پر ایک اور مقدمہ بھی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی نشاندہی میں مبینہ طور پر مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔

اپیلٹ فورم نے اپنے تفصیلی فیصلے میں پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی سے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف غیر ملکی خفیہ اداروں سے مل کر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مقدمہ تیار کریں اور پھر اسے عدالت میں پیش کریں۔

یہ تفصیلی حکم گزشتہ روز جاری کیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے کا مختصر فیصلہ چند روز پہلے سامنے آیا تھا جس میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر کے تئیس سال کر دی گئی تھی۔

شکیل آفریدی ان دنوں پشاور سنٹرل جیل میں ہیں اور انھوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں فاٹا ٹریبونل میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے گئے تھے جہاں ٹریبونل نے اپیل فورم سے کہا تھا کہ وہ سزا کا جائزہ لے۔

سمیع آفریدی کے مطابق ٹریبونل نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ مقدمہ دوبارہ سے شروع ہو سکتا ہے یا نہیں اور دوسرا یہ بھی دیکھے کہ کیا پولیٹیکل ایجنٹ ایک سیشن جج کے طور اس مقدمے کی سماعت کر سکتے ہیں یا نہیں تاہم سمیع اللہ آفریدی کے مطابق اب تفصیلی فیصلہ انتہائی حیران کن ہے ۔

انھوں نے کہا کہ کمشنر پشاور ڈویژن پر مشتمل اپیل فورم نے بنیادی طور پر اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی فیصلے کو بحال کر دیا ہے۔

اے پی اے خیبر نے شکیل آفریدی کو مئی سن 2012 میں 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا انھیں ایف سی آر کے تحت شدت پسند تنظیم کے ساتھ روابط کے الزام میں دی گئی تھی۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے فیصلے میں یہ کہا گیا تھا کہ تفتیش میں دیگر الزامات بھی موجود ہیں جو کہ شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں اس لیے ان پر اس جگہ کے قانون کے تحت کاررروائی کی جا سکتی ہے۔

سمیع اللہ آفریدی نے کہا کہ ان کا موقف یہ تھا کہ اے پی اے کے پاس یہ اختیار نہیں تھا اور اے پی اے کی جانب سے سنائی گئی سزا یکطرفہ تھی اس میں شکیل آفریدی کو سنا نہیں گیا اور نہ ہی شکیل آفریدی کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا ہے اور نہ کوئی جرگہ ہوا ہے ۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کی سماعت ایسی ہو جس میں شکیل آفریدی خود پیش ہو سکیں اور ان کے وکیل بھی ان کے ہمراہ ہوں تاکہ یہ انصاف پر مبنی سماعت ہو۔

سمیع اللہ آفریدی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف وہ فاٹا ٹریبونل سے پھر رجوع کریں گے اور انھیں امید ہے کہ وہ ایف سی آر کے تحت فیصلہ دیں گے۔