’مغرب مصر کے بحران کو سمجھنے میں ناکام رہا‘

نبیل فہمی نے ان خدشات کو مسترد کیا کہ ان کا ملک دوبارہ ظالمانہ اور آمرانہ دور میں واپس جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننبیل فہمی نے ان خدشات کو مسترد کیا کہ ان کا ملک دوبارہ ظالمانہ اور آمرانہ دور میں واپس جا رہا ہے
    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, نامہ نگار برائے سکیورٹی امور، بی بی سی نیوز

’مغرب مصری عوام کی حمایت کھو رہا ہے،‘ مصر کے وزیرِ خارجہ نبیل فہمی نے یہ تنبیہ بدھ کو برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات سے قبل کی۔

<link type="page"><caption> عدلیہ السیسی کی آلۂ کار بن چکی ہے: اخوان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/03/140324_egypt_court_sentences_death_supporters_tl.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> مصر کے انقلاب کے حیرت انگیز اثرات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/03/140303_unpredictability_of_revolution_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

بی بی سی بات سے گفتگو میں انھوں نے مغربی ممالک کی جانب سے نیم دلانہ حمایت پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب مشرقِ وسطی کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی حمایت اور حکومت کی بدنامی کے الزام میں گرفتار متعدد غیر ملکی صحافیوں کے خلاف شفاف مقدمہ چلے گا۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت اس معاملے دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔

برطانوی قومی سلامتی کے مشیر سر کِم ڈیروچ کے ساتھ ملاقات میں نبیل فہمی نے ان خدشات کو مسترد کیا کہ ان کا ملک دوبارہ ظالمانہ اور آمرانہ دور کی طرف جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ الجزیرہ کے صحافیوں، جن میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار پیٹر گرسٹا بھی شامل ہیں، کے خلاف مقدمے کی شفاف سماعت ہو گی اور انھیں طبی سہولیات تک رسائی دی جائے گی۔ ان کے مطابق مصر میں جمہوری حکومت ہے اس لیے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ اس مقدمے میں قطر کے ساتھ مصر کے کشیدہ تعلقات بھی اہم عنصر ہے، لیکن یہ حقیقت مقدمے کے ججوں کو متاثر نہیں کرے گی۔ الجزیرہ قطر کا خبر رساں ادارہ ہے۔

گذشتہ برس اخوان المسلمین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے قاہرہ کی حکومت کو سخت گیر حربے استعمال کرنے پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کے 16 ہزار سے زائد مخالفین قید میں ہیں، سینکڑوں جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں اور متعدد غیر ملکی صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مصر کی حکومت بدنام کر رہے ہیں اور کالعدم اخوان المسلمین کی حمایت کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ استغاثہ ان صحافیوں کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

نبیل فہمی کا کہنا تھا کہ ’اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔‘ انھوں نے مزید کہا: ’اگر وہ بے قصور پائے گئے تو مجھے فیصلہ سن کر خوشی ہوگی۔‘

گذشتہ برس اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں مصر کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ’میراخیال ہے کہ ایک طویل المدتی سیاسی مفاہمت حل کے لیے اخوان المسلین کو شریک کرنا چاہیے۔‘

ان کے سامنے یہی سوال رکھا گیا کہ کیا اب ایسا کرنا مشکل نہیں ہو گیا کیونکہ اب اس تنظیم کودہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔

نبیل فہمی کا جواب تھا: ’حکومت کی جانب سے اخوان المسلمین پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سڑکوں پر ہونے والے تشدد، وزیرِ داخلہ کو قتل کرنے کی کوشش، پولیس سٹیشنوں کے خلاف تشدد، 60 گرجا گھروں کو نذرِ آتش کرنا اور 300 لوگوں کی ہلاکت تھی۔‘

خود مصر کی حکومت پر بھی 2013 میں اخوان المسلمین کے دھرنوں اور احتجاج کے دوران سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

مصری وزیرِ خارجہ نبیل فہمی نے جزیرہ نمائے سینا میں فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ضروری خونریزی قرار دیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصری وزیرِ خارجہ نبیل فہمی نے جزیرہ نمائے سینا میں فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ضروری خونریزی قرار دیا

مصر اور اس کے اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوشش ہے کہ اخوان المسلمین پر برطانیہ میں بھی پابندی عائد کی جائے۔

نبیل فہمی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مصر کے انٹیلی جنس ادارے اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری ہے۔ اخوان المسلمین کا اصرار ہے کہ اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر پر امن ہیں۔

مصری وزیر خارجہ نیبل فہمی نے تسلیم کیا کہ جزیرہ نمائے سینا میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں، بالخصوص وسطی اور شمالی علاقوں میں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت وہاں کسی قسم کی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ وہ خونریزی نہیں چاہتی۔

انھوں نے کہا: ’اس میں بہت سے قباحتیں ہیں۔ یہ غیر ریاستی فریق ہیں اور آپ ان کے خلاف ایسے نہیں لڑ سکتے جیسے کوئی فوج دوسری فوج سے لڑتی ہے۔ اس طرح کے فوری حل کا مطب ہے بہت سی جانوں کا ضیاع، اور ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے۔‘

ان کے بقول حکومت اس کے بجائے مقامی آبادی کی غربت دور کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

عرب ممالک میں آنے والے انقلاب کو ’عرب سپرنگ‘ کہا جاتا ہے جس نے تیونس، مصر لیبیا اور یمن میں اقتدار کا خاتمہ کیا۔ اس کے بارے میں نبیل فہمی کا کہنا تھا: ’یہ جمہوریت کے پیدائش سے قبل ہونے والی تکلیف ہے۔‘

’میں اس ’’عرب سپرنگ‘‘ کے استعارے کو سمجھتا ہوں، لیکن اسے استعمال نہیں کرتا۔ آپ مغرب والے کیوں ہر اس چیز کو اپنے طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ کی نہیں ہے اور آپ کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتی؟ اور بعض اوقات آپ خود اپنی اصطلاحات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

’یہاں لندن میں بہار کافی ہنگامہ خیز موسم ہوتا ہے ، آپ لوگوں کے ہاں ایک دن میں چار بار موسم بدلتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بہار نہیں ہوتی، وہاں طویل گرما اور بہت مختصر موسمِ سرما ہوتا ہے۔‘

’آپ لوگوں کو جمہوریت کے قیام میں کتنے سال لگے؟ تین سال؟ اس میں وقت لگتا ہے۔ 60 برس میں سنہ 1952 سے 2011 سنہ تک ہمارے ہاں چار صدور آئے۔ ہمارے ہاں گذشتہ صرف تین برس میں تین صدر آ گئے۔

’ہم نے کچھ غلطیاں کی ہیں،‘ انھوں نے اقرار کیا، تاہم جلد ہی اس کا االزام اخوان السملین پر عائد کرتے ہوئے کہا: ’جنھیں طاقت ملی، انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ انھیں نہ صرف انتظامی اختیار مل گیا ہے، بلکہ انھوں نے لوگوں کی شناخت بدلنے کا اختیار بھی حاصل کر لیا ہے، حالانکہ انھیں یہ حق حاصل نہیں تھا۔‘