مصر: سابق صدر مرسی کے 11 حامیوں کو قید کی سزا

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے

مصر کی ایک عدالت نے معذول صدر محمد مرسی کے 11 حامیوں کو فسادات برپا کرنے اور ان میں حصہ لینے کے لیے قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ سزائیں پانچ سے 88 سال تک کی مدت پر محیط ہیں۔

محمد مرسی کے یہ حامی گذشتہ سال صدر کی معزولی کے بعد ہونے والے مظاہروں میں گرفتار ہوئے تھے۔

اس سے قبل مارچ میں محمد مرسی کے 500 حامیوں کو قاہرہ میں منیاء کی اسی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

واضح رہے کہ یہ تازہ فیصلہ اسلام پسندوں کے خلاف فوج کی حمایت والی مصری حکومت کے جاری قدغن کے درمیان آیا ہے۔

سنیچر کو 11 حامیوں میں سے پانچ افراد کے خلاف غائبانہ فیصلہ سنایا گیا۔

تمام 11 افراد پر سمالوط شہر میں مظاہروں کا الزام ہے جو معزول صدر مرسی کے حامیوں کے دھرنے کے خلاف پرتشدد کارروائی کے بعد شروع ہوا تھا۔

تمام تر پابندیوں کے باوجود مرسی کے اسلام پسند حامیوں کا مظاہرہ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتمام تر پابندیوں کے باوجود مرسی کے اسلام پسند حامیوں کا مظاہرہ جاری ہے

سکیورٹی فوج کی اس کارروائی میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

بہر حال سنیچر کو جن کے خلاف فیصلے سنائے گئے ہیں وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

محمد مرسی کو گذشتہ سال جولائی میں ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے برطرف کر دیا تھا۔ محمد مرسی پر علیحدہ چارج لگائے گئے ہیں:

  • ان پر ایوان صدر کے باہر سنہ 2012 میں اپنے حامیوں کو تشدد پر آمادہ کرنے اور اس کے نتیجے میں ان مظاہرین کے قتل کا الزام ہے جو قاہرہ میں صدر کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
  • بیرونی تنظیموں سے دہشت گردانہ عمل کے لیے ساز باز کرنے کا الزام ہے۔ استغاثہ نے مرسی پر فلسطین کے حماس اور لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
  • سنہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران ایک جیل توڑنے کے عمل میں قید خانے کے افسروں کے قتل کا الزام ہے۔
  • عدلیہ کی توہین کا الزام ہے۔

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان کی از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔

گذشتہ دنوں مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیم نے محمد مرسی کے خلاف بعض الزامات کو عقل کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔