عدلیہ السیسی کی آلۂ کار بن چکی ہے: اخوان

،تصویر کا ذریعہAP
مصر میں کالعدم قرار دی جانے والی اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمون نے اپنے پانچ سو سے زیادہ حامیوں کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔
تنظیم ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی فوج کے سربراہ عبدالفتح السیسی عدلیہ کو ان کی تنظیم کے خلاف آلۂ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اخوان کے علاوہ ان سزاؤں کی دیگر حلقوں کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔
مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے ملک کے معزول صدر محمد مرسی کے 529 حامیوں کو پیر کو سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق قاہرہ میں عدالت نے یہ فیصلہ محض دو پیشیوں کے بعد سنایا ہے جس میں ملزمان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا موقف بیان کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان تمام افراد پر عائد الزامات میں قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔
یہ تمام افراد اخوان المسلمین سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سمیت کل 1200 افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔
گذشتہ برس محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر کے حکام نے اسلام پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ سینکڑوں لوگ مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن حملوں کے الزام میں یہ سزائیں سنائی گئی ہیں وہ گذشتہ برس اگست میں سکیورٹی فورسز کی جانب مرسی کے حامیوں کے ایک احتجاجی کیمپ کو منتشر کرنے کے بعد کیے گئے تھے۔
مرسی کے حامیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیے جانے والے حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادھر مصری وزارتِ خارجہ نے سزائے موت کے فیصلوں کو جاری عدالتی عمل میں کیا جانے والا پہلا فیصلہ قرار دیا ہے۔







