معزول صدر محمد مرسی عدالت میں پیش

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق معزول صدر محمد مرسی دارالحکومت قاہرہ میں ایک عدالت میں پیش ہوئے ہیں جہاں ان پر 2011 میں جیل توڑنے میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے مینا کا کہنا ہے کہ انھیں اسکندریہ کی ایک جیل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت لے جایا گیا۔
مصر کے پہلے آزادانہ طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو جولائی 2013 میں فوج نے ایک بغاوت میں برطرف کر دیا تھا۔ اب ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت چار مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔
قاہرہ میں پولیس اکیڈمی میں ان پر مقدمہ چلایا جانا ہے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے ہی الزامات میں 130 افراد کو بھی مقدمات کا سامنا ہے۔
محمد مرسی پر الزام ہے کہ 2011 میں انہوں نے وادی النطرون جیل توڑنے کا انتظام کیا اور وہ جیل اہلکاروں کے قتل بھی ملوث تھے۔
عدالت میں انھیں شیشے کے ایک بند کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق انھیں اجازت لے کر بولنے دیا جائے گا۔
جب نومبر میں پہلی بار وہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے تو انھوں نے عدالت کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے اور قیدیوں کا لباس پہننے سے انکار کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ادھر مصرکی فوجی انتظامیہ نے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو ملک کے صدارتی انتخاب امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز (سکاف) نے کہا کہ ’لوگوں کے السیسی پر اعتماد کو لوگوں کی آزادانہ خواہش کے طور پر دیکھا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب اتوار کو معزول صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین اور اس کے اتحادیوں نے جنرل السیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ قاتل کو سزا دلوانا چاہتے ہیں، انھیں صدر نہیں بنانا چاہتے۔‘
صدر مرسی کو معزول کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والی اخوان المسلمین نے ملک میں گذشتہ سنیچر سے 18 روزہ تحریک کا آغاز کیا ہے۔ تین سال پہلے صدر مبارک کو 18 دن کی تحریک کے بعد ہی اقتدار کو چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔
مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ملک کی موجودہ حکومت نے اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد حملوں کے پیچھے اخوان المسلمون کا ہاتھ ہے۔ اخوان المسلمین اس بات سے انکار کرتی آئی ہے۔







