مصر: السیسی کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اشارہ

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ وہ ملک کی اکثریت کی طرف سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینےکی درخواستوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق’سرکاری کارروائی‘ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
مصری فوج کے سربراہ کی جانب سے روں سال اپریل میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے حوالے سے یہ واضح ترین اشارہ ہے۔
جولائی سال 2013 میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل السیسی کا بے حد اہم کردار تھا۔
محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے جنہیں مظاہروں کے بعد فوج نے معزول کر دیا گیا تھا۔
جنرل السیسی کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے پہلے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل جنرل السیسی کو پہلے ہی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ فیلڈ مارشل السیسی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں قوی امکان یہی ہے کہ وہ آسانی سے انتخابات جیت جائیں گے کیونکہ انھیں عوامی مقبولیت حاصل ہے اور کوئی دوسرا مضبوط امیدوار ان کے مقابلے میں نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے پہلے گذشتہ ماہ جنرل السیسی سے جب ایک کویتی اخبار السیاسہ نے پوچھا کہ کیا وہ صدارتی انتخاب لڑیں گے تو انھوں نے کہا کہ کہ مصر کے عوام کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے وہ صدارتی انتخاب کے دوڑ میں شامل ہوں گے۔
انھوں نے السیاسہ کو بتایا کہ’میں لوگوں کے مطالبے کو مسترد نہیں کروں گا۔‘
اس بیان کے بعد روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جنرل عبدالفتاح السیسی کی صدارت حاصل کرنے کے لیے کوشش کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ملک کی موجودہ حکومت نے اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے. حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد حملوں کے پیچھے اخوان المسلمین کا ہاتھ ہے۔ اخوان المسلمین اس بات سے انکار کرتی آئی ہے۔
اخوان المسلمین کے خلاف سرکاری کارروائی کے ساتھ ان لوگوں پر بھی تیزی سے کارروائی ہوئی ہے جنھیں فوج مخالف سمجھا جاتا ہے۔ کئی صحافی اور سیکولر سماجی کارکنوں کو بھی سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک پر حسنی مبارک کے زمانے میں قابض فوجی تنظیم مصر کو ایک بار پھر سے اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے مصر بے مثال پیمانے پر تشدد کا سامنا کر رہا ہے۔
تنظیم نے مصر کی فوج پر الزام لگايا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے۔







