استحکام کے ترسے مصریوں کو فوج سے امیدیں

،تصویر کا ذریعہap
- مصنف, ایڈویرڈ لوئس
- عہدہ, مصر
مصر سیاسی تبدیلیوں کے پرآشوب دور سے گزر رہا ہے۔ صدراتی انتخابات اب قریب تر ہیں اور استحکام کے لیے ترستے ہوئے لوگ فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اسوان سے الاقصر جانے کے لیے میں 163 نمبر ٹرین میں سوار ہوا۔ ایک گلابی رنگ کا مڑا تڑا کاغذ کا ٹکڑا اس سفر کے دوران میرا ٹکٹ تھا۔ ٹرین کے ڈبے میں پیشاب اور سگریٹ کی بدبو بسی ہوئی تھی۔
ڈبے میں بکھرے گنے کے چھلکوں پر چلتے ہوئے مجھے کھڑکی کے ساتھ ایک خالی نشست ملی۔ اس کھڑکی کا شیشہ تڑخا ہوا تھا، اس کا دہاتی فریم جام تھا اور شیشے پر جمی مٹی کی تہہ کی وجہ سے باہر کا منظر دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ڈبے میں مختلف اشیاء مثلا چپس، سگریٹ، پھل، ٹشو اور دھوپ کے چشمے بیچنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ایک شخص جس نے سر پر ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا ’چائے ۔چائے‘ کی آوازیں لگاتا ہوا آیا اور وہ ایلمونیم کی ایک بڑی سی چائے دانی سے گرما گرم چائے ڈال کر گاہکوں کو دے رہا تھا۔ میں نے اپنے ہم سفروں پر نظر ڈالی، ڈبے کے اگلے حصہ میں قطبی فرقے کے عیسائیوں کا ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا۔ ان سب کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان صلیب کا نشان بنا ہوا تھا اور جب وہ ایک دوسرے کو کھانا دینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے تھے تو صلیب کا نشان نظر آتا تھا۔
ان کے پیچھے نوجوان مصریوں کا ایک گروپ تھا جنھوں نے ٹی شرٹیں پہن رکھی تھیں اور جدید فیشن کے انداز میں بال بنائے ہوئے تھے۔ وہ اپنے موبائیلوں فونوں پر موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA
میرے سامنے والی نشست پر کالی موچھوں والا ایک کسان صاف شفاف سفید رنگ کا عمامہ پہنے بیٹھا تھا۔ پانچ سالہ محمود دوسری طرف اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کی نیلی ڈانگری سے چوسنی لٹک رہی تھی اور وہ جنوبی مصر کی گرمی سے نڈہال نیند میں جھٹکے کھا رہا تھا۔
محمود کا باپ احمد ایک شرمیلا نوجوان جو اپنی عمر سے کہیں بڑا دکھائی دے رہا تھا پنیر اور روٹی مصر کی روایات کے مطابق اپنے ہمسفروں کو بھی پیش کر رہا تھا۔ میں نے اس کی پیش کش قبول کر لی اور بات چیت شروع ہو گئی۔ احمد اسوان میں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کرکے واپس جا رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا جو سیاحوں کو غباروں میں فضائی سیر کرانے کا بزنس کرتی تھی لیکن محمود کی پیدائش سے ایک ماہ قبل انھیں سیاحوں کی کمی کے باعث نوکری سے نکال دیاگیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ چھ ماہ سے بے روزگار ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انقلاب سے پہلے وہ کبھی کبھی ایک ہزار مصری پاونڈ بھی کما لیتے تھے لیکن اب ان کے پاس ایک پاونڈ بھی نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اب اپنے خاندان والوں سے مدد لینے پر مجبور ہیں اور کبھی کبھی انھیں کسی ہوٹل پر کام بھی مل جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الاقصر میں اب یہ ہر شخص کی کہانی ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ کے انقلاب کے بعد جب حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ کیاگیا سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور اسوان اور الاقصر جیسے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بہتر ہوں گے اور بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔
اسوان سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے فیلڈ مارشل فتح السیسی کے لیے عوامی حمایت کا مظاہرہ دیکھا تھا۔ ایک چائے خانے میں جمال عبدالناصر اور انوار سعادات جیسے مصری قوم کے ہیروں کے ساتھ عبدالفتح السیسی کے پوسٹر آویزاں تھے۔
ایسے ہی ایک پوسٹر پر سیسی کی شکل کا ایک عقاب بنا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ دنیا کا بہتریں سپاہی۔
مصر کے نئے آئین پر ریفرنڈم کے بعد ان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹھانوے فیصد لوگوں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا گو کہ اس ریفرنڈم میں صرف انتالیس فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔
ایک اخبار یوم الصبح نے اپنی سرخی میں کہا کہ سیسی ہی حل ہیں۔ کئی اخبارات نے کہا ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ الجمہوریہ نے کہا کہ آئین مکمل ہو گیا ہے۔ احمد نے فتح مند جذبات میں کہا کہ فوج نے ملک کا نظام سنبھال لیا ہے اور سب ان سے ڈرتے ہیں۔
میں پوچھا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آزادیوں پر کچھ قدغن لگائی جائے۔
انھوں نے کہا نہیں پوری آزادی ہے اگر آپ ٹھیک ہیں اور کوئی گڑ بڑ نہ کریں دوسری صورت میں مسئلہ تو ہو گا۔
ایسے لوگ مجھ نظر نہیں آئے جنہوں نے صرف ڈیڑھ سال قبل محمد مرسی کو صدر منتخب کیا تھا۔ مصر کے لوگ استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ترس رہے ہیں اور ایک مضبوط فوجی حکومت کی عوامی سطح پر حمایت موجود ہے۔ لیکن کس قیمت پر۔
احمد کے خیال میں اخوان المسلمین تمام چیزوں پر اپنا قبضہ چاہتی تھی۔ روزگار صرف اپنے حمایوں کے لیے اور کسی کے لیے نہیں۔ اب فوج کا قبضہ ہے اب حالات بہتر ہوں گے۔







