قاہرہ میں پولیس ہیڈ کواٹر کے باہر دھماکہ

،تصویر کا ذریعہAP
مصر میں وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں پولیس کے صدر دفتر کے باہر ایک بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوگئے ہیں۔
اس طاقتور بم دھماکے کو شہر بھر میں محسوس کیا گیا اور شہر کے وسطی علاقے کے اوپر کالے رنگ کے دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔
دھماکے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد شہر کے دقی کے علاقے میں ایک دوسرا بم حملہ ہوا ہے۔
اب تک اس حملے کی ذمے داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
یہ دھماکے 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کے کئی عشروں پر محیط اقتدار کے بعد ایک عوامی تحریک کے ذریعے معزولی کی تیسری سالگرہ کے موقعے پر ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کی سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے باہر یہ حملہ ایک کار بم کے ذریعے کیا گیا ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر 30 ایمبیولنس فوری طور پر روانہ کر دی گئی ہیں اور زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد ہسپتالوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی چینل پر دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق دھماکے میں پولیس کے صدر دفتر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ قریب میں ہی واقعہ ایک اسلامی عجائب گھر اور تاریخی دستاویزات کی ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ اہم ہدف ہے اور اسے شہر کی محفوظ ترین عمارتوں میں سے ایک ہونا چاہیے تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے ایک ایسے وقت ہوا ہے جب سکیورٹی فورسز نے حسنی مبارک کی معزولی کی سالگرہ کے موقعے پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے تھے۔
ادھر کالعدم قرار دی جانے والی سیاسی جماعت اخوان المسلمین نے جمعے کی نماز کے بعد متعدد احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔ اخوان المسلمین صدر محمد مرسی کی معزولی کے خلاف مظاہرے کرتی رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ انھیں بحال کیا جائے۔







