مصر: نئے آئین پر ریفرینڈم مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

ریفرینڈم کے لیے تشہیری مہم بہت یک طرفہ رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنریفرینڈم کے لیے تشہیری مہم بہت یک طرفہ رہی

مصر میں نئے آئین پر ریفرینڈم کے لیے دو روزہ ووٹنگ بدھ کو مکمل ہوگئی ہے اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

پولنگ کے پہلے دن تشدد کے مختلف واقعات میں نو افراد کی ہلاکت کے برعکس دوسرے دن تشدد کا کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔

مصری فوج چاہتی ہے کہ اس ریفرینڈم میں نئے آئین کے لیے بھاری حمایت سامنے آئے، جسے صدر مرسی کی معزولی کی حمایت سمجھا جائے گا۔

ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہونا ہے۔

مصری عوام ملک میں دو روزہ ریفرینڈم میں نئے آئین کی منظوری کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں جس کے تحت ملک میں انتخابات کا انعقاد ہو سکے گا۔

یہ نیا آئین اس آئین کی جگہ لے گا جو معزول صدر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پیش کیا تھا۔ صدر محمد مرسی کی حکومت کا گذشتہ سال فوج نے تختہ الٹ دیا تھا۔

مصری حکام نے خبردار کیا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں رخنہ ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائےگا۔

منگل کو مجموعی طور پر ووٹنگ کا عمل پر امن رہا تاہم چند مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔

سابق صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے اس ریفرینڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اخوان المسلمین کو حال ہی میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

ریفرینڈم کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دو لاکھ پولیس اہل کار، 150 سکیورٹی یونٹ اور دو سو لڑاکا یونٹوں کو ووٹنگ کے دونوں روز پولنگ سٹیشنوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا آئین عوام کی بجائے فوج کے حقوق کا محافظ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنناقدین کا کہنا ہے کہ نیا آئین عوام کی بجائے فوج کے حقوق کا محافظ ہے

سکیورٹی حکام کے مطابق منگل کو رائے شماری کے دوران جھڑپوں میں نوافراد ہلاک ہوئے۔

یک طرفہ مہم

بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ اس ریفرینڈم کے لیے تشہیری مہم بہت یک طرفہ رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اور نجی ذرائع ابلاغ پر نئے آئین کی حمایت میں ایک تفصیلی مہم چلائی گئی جب کہ اس کے خلاف پوسٹر ڈھونڈنا مشکل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نئے آئین کے خلاف پوسٹر لگانے والے چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پیر کے روز نمایاں اسلام پسند جماعت ’مضبوط مصر پارٹی‘ کے چند کارکنوں کی نئے آئین کے مخالف مہم چلانے پر گرفتاری کے بعد جماعت نے اعلان کیا کہ وہ اس ریفرینڈم کا بائیکاٹ کریں گے۔

ملک کے عبوری وزیراعظم حاذم ببلاوی نے اس ریفرینڈم کو مصر کے لیے ’اہم ترین تاریخی موقع‘ قرار دیا۔

مجوزہ آئین کی تشکیل ایک 50 رکنی کمیٹی نے کی ہے جس میں اسلام پسند جماعتوں کے صرف دو نمائندے شامل تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیا آئین شہریوں کو قدرے زیادہ حقوق اور آزادی فراہم کرتا ہے اور ملک میں استحکام کے لیے اہم قدم ہے۔

اس کمیٹی کے سربراہ تجربہ کار سفارت کار امد موسیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جمہوریت کو قائم رکھنے اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا آئین عوام کی بجائے فوج کے حقوق کا محافظ ہے اور 2011 میں حسنی مبارک کو برطرف کرنے والی تحریک کے وعدے پورے نہیں کرتا۔

نئے آئین میں عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کی اجازت ہے اور آئندہ آٹھ سال تک وزیرِ دفاع کی تعیناتی کا حق بھی فوج کو ہے۔

اس کے علاوہ مجوزہ آئین میں فوج کے بجٹ کو سویلین نگرانی سے بھی مبرا قرار دیا گیا ہے۔