مصر:پولیس ہیڈکوارٹر میں دھماکہ، 12 افراد ہلاک

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی
،تصویر کا کیپشندھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی

مصر کے سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ شمالی مصر میں پولیس ہیڈکوارٹر میں بم دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

اندیشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ کے شمال میں منصورہ کے علاقے میں ہونے والا یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی۔ دھماکے سے آس پاس کی عمارتوں کے شیشے چکناچور ہو گئے اور اس کی آواز 20 کلومیٹر دور تک سنی گئی۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والوں میں صوبائی سکیورٹی چیف بھی شامل ہیں۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکے کا باعث کیا تھا، تاہم ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ کار بم سے ہوا۔

حکام نے کہا ہے کہ منگل کے صبح ایک بج کر دس منٹ پر ہونے والے اس دھماکے سے عمارت لرز اٹھی۔ اس واقعے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل آنے والی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ دھماکہ دقہلیہ شہر میں ہوا۔

اب تک کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی، تاہم مصر کے مینا خبررساں ادارے کے مطابق عبوری وزیرِ اعظم حاذم ببلاوی نے اخوان المسلمین کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے۔

اس سال جولائی میں فوج کی جانب سے مصر کے صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس دوران ہونے والے تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اس سال اگست میں شدت پسندوں نے وادیِ سینا کے علاقے میں حملہ کر کے 24 پولیس اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔