مصر:اخوان المسلمین 683 افراد کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔
یہ سزائیں معزول صدر مرسی کے بعد ملک میں بحرانی صورت حال پیدا ہونے اور کشیدگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے مقدمے میں سنائی گئی ہیں۔
یہ باتیں اس مقدمے میں شامل وکیلوں نے بتائی ہیں۔
جس تیزی کے ساتھ معاملے کی سماعت ہو رہی ہے اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سماعت پر صرف ایک گھنٹہ صرف ہوا اور وکیل دفاع کو اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عدالت کے باہر بہت سی خواتین جمع تھیں جن میں سے بعض فیصلہ سننے کے بعد بے ہوش ہو گئیں۔
محمد بدیع کے علاوہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں پر گذشتہ سال ایک پولیس تھانے پر حملے کا الزام ہے۔
اسی عدالت نے مارچ میں 529 افراد کو موت کی سزا سنائی تھی جس میں سے 492 افراد کی سزا کو واپس لے لیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گيا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصری دارالحکومت قاہرہ کے بالائی علاقے منیا ایک جج نے تقریبا سات سو افراد کے لیے موت کی سزا سنائی ہے جس پر نظر ثانی کے لیے مصر کے مفتیِ اعظم کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق اس بابت جون کے آخر میں حتمی فیصلہ آ جائے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ پانچ سو سے زیادہ موت کی سزاؤں میں سے 37 لوگوں کو چھوڑ کر باقی تمام افراد کی سزاؤں میں تخفیف کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل سنیچر کو مصر کی اسی عدالت نے معزول صدر محمد مرسی کے 11 حامیوں کو فسادات برپا کرنے اور ان میں حصہ لینے کے لیے قید کی سزا سنائی۔
یہ سزائیں پانچ سے 88 سال تک کی مدت پر محیط ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تازہ فیصلہ فوج کی حمایت یافتہ مصری حکومت کی جانب سے اسلام پسندوں کے خلاف کے جاری پابندیوں کے درمیان کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
محمد مرسی کو گذشتہ سال جولائی میں ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے برطرف کر دیا تھا۔ محمد مرسی پر علیحدہ الزامات لگائے گئے ہیں:
- ان پر ایوان صدر کے باہر سنہ 2012 میں اپنے حامیوں کو تشدد پر آمادہ کرنے اور اس کے نتیجے میں ان مظاہرین کے قتل کا الزام ہے جو قاہرہ میں صدر کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
- بیرونی تنظیموں سے دہشت گردانہ عمل کے لیے ساز باز کرنے کا الزام ہے۔ استغاثہ نے مرسی پر فلسطین کے حماس اور لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
- سنہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران ایک جیل توڑنے کے عمل میں قید خانے کے افسروں کے قتل کا الزام ہے۔
- عدلیہ کی توہین کا الزام ہے۔
مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان کی از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔
گذشتہ دنوں مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔
حقوق انسانی کی تنظیم نے محمد مرسی کے خلاف بعض الزامات کو عقل کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔







