مصر کے انقلاب کے حیرت انگیز اثرات

مصر کے شہری فوج خصوصاً فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو ملک میں استحکام کا کریڈٹ دیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمصر کے شہری فوج خصوصاً فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو ملک میں استحکام کا کریڈٹ دیتے ہیں

عرب ممالک میں تین سال قبل شروع ہونے والے انقلاب کے آغاز کے بعد مصر کے دارالحکومت میں اس کے اثرات حیرت انگیز طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مصر کے سابق حکمران حسنی مبارک کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب کے بعد سے یونیفارم میں ملبوس سکیورٹی افواج کا ہر رکن گلیوں سے اچانک غائب ہو گیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصر پولیس کی ایک ایسی ریاست ہے جہاں حقیقت میں کوئی پولیس اہلکار نہیں ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کو سر پر لکڑی کی ایک بڑی تھالی اٹھائے غلط راستے سے گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں اور اس کے بعد ایک موٹر سائیکل بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ موٹر سائیکل کی دیکھا دیکھا ایک کار بھی ’ون وے‘ کو توڑتی ہوئی اسی سڑک پر چلی جاتی ہے، مگر پولیس اہلکار کچھ نہیں کہتے۔

مختصراً یہ کہ مصر میں زندگی معمول پر آ چکی ہے۔

مصر کی ٹریفک میں چھوٹے گدھوں کی مدد سے کھینچے جانے والی چھکڑا گاڑیاں ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔

مصدر کے سابق حکمران حسنی مبارک کے دورِ حکومت میں ان چھکڑا گاڑیوں پر پابندی عائد تھی کیونکہ یہ گاڑیاں انھیں مصر کی غربت کی یاد دلاتی تھیں۔

مصر کی قدرے امیر بستیوں میں قصابوں کی دکانوں کے باہر لٹکی ہوئی ذبحہ شدہ بھیڑیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان بھیڑوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امیر مصریوں کے لیے غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے اور ان کی قوت خرید اچھی ہے۔ یعنی خوشحالی غیر یقینی صورتِ حال کی جگہ لے چکی ہے۔

تین سال قبل مصر کے بینک بند ہو چکے تھے اور کیش مشینیں خالی ہو چکی تھیں۔

آج کل غیر ملکی سیاحوں کی اکثریت نظر آتی ہے۔ ہمارے ہوٹل کے باغ میں ادھیڑ عمر امریکی خواتین کا ایک گروپ نظر آیا۔

حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصر سیاسی تبدیلی کے دور سے گزر چکا ہے۔

مصر میں تین سال کے دوران تین ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے تاہم اس کے نتائج کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں۔

مصر میں گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمد مرسی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ محمد مرسی گذشتہ 30 سالوں کے دوران منتخب ہونے والے مصر کے پہلے سویلین صدر تھے تاہم انھیں فوج نے جولائی میں معزول کر دیا تھا۔

مصر کے شہری فوج خصوصاً فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو ملک میں استحکام کا کریڈٹ دیتے ہیں۔

مصر کے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو دو برس پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا اور اب بھی ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں مصری عوام زیادہ نہیں جانتے۔

مصر کے لوگ ملک میں بےروزگاری کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے خیالات کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں تاہم اس کے باوجود انھیں ملک کا ’نجاتِ دہندہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔