یوکرین بحران: اہم چہار فریقی بات چیت کا اعلان

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب روس کے حامی رضاکاروں مقامی حکومت کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیوکرین کے مشرقی علاقوں میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب روس کے حامی رضاکاروں مقامی حکومت کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا

یوکرین کے روزبروز خراب ہوتے ہوئے حالات پر بات چیت کرنے کے لیے یورپی یونین، روس، امریکہ اور یوکرین کے سینيئر حکام آئندہ ہفتے ملاقات کر رہے ہیں۔

بحران کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب چہار طرفی ملاقات ہو رہی ہے۔

یوروپیئن یونین کے خارجہ امور کی چیف کیتھرن ایشٹن، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگے لاوروف اور یوکرین کے وزیر خارجہ آندری دیشچتسیا ملاقات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فروری میں روس نے یوکرین کے خود مختار علاقے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کر لیا تھا اور سرحد پر اپنی فوج اکٹھی کر لی تھی۔

یوکرین اور امریکہ نے روس پر روسی بولنے والے یوکرین کے شمالی علاقے میں بطور خاص گڑبڑ پیدا کا الزام لگایا تھا کہ وہ اس بہانے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ روس نے ان الزامات کی شدو مد سے تردید کی ہے۔

کیتھرن ایشٹن آئندہ ہفتے روس، امریکہ اور یوکرین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہی ہیں
،تصویر کا کیپشنکیتھرن ایشٹن آئندہ ہفتے روس، امریکہ اور یوکرین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہی ہیں

ماسکو نے روس کے حامی صدر وکٹر یانوکووچ کے فروری میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد سے کیئف میں نئے صدر کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

اس چہار طرفہ ملاقات کے متعلق وقت اور جگہ کے بارے وضاحت نہیں دی گئي ہے جبکہ یورپی یونین نے یہ تصدیق ضرور کی ہے کہ یہ اجلاس یورپ ہی میں ہو گا۔

کیتھرن ایشٹن کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’بیرونس ایشٹن یوکرین میں حالات کی بہتری کے لیے سفارتی کوششوں میں منہمک ہیں، اس کے لیے وہ امریکہ، روس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ سے آئندہ ہفتے ملاقات کر رہی ہیں۔‘

منگل کو نیٹو نے روس کو متنبہ کیا تھا کہ یوکرین میں مزید دخل اندازی ’تاریخی غلطی‘ ہوگی اور اس کے سنگین نتائج برآمد سکتے ہیں۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل آنیرس فو راسموسین نے کہا کہ یوکرین کی شمالی سرحد پر روس نے جو فوجیں جمع کر رکھی ہے اسے واپس بلائے۔

راسموسن نے روس کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراسموسن نے روس کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے

انھوں نے کہا: ’میں روس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پیچھے ہٹے اور مشرقی یوکرین میں حالات خراب نہ کرے۔‘

انھوں نے روس کو یوکرین کی حکومت سے ’حقیقی بات چیت کرنے‘ کی دعوت دی۔

ادھر روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن انھیں وہاں روسی مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

واضح رہے کہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب روس کے حامی رضاکاروں نے مشرقی یوکرین کے شہروں دونیتسک، لوہانسک اور خارکیف میں مقامی حکومتوں کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے خود کو ان عمارتوں میں بند کر دیا اور ان پر روسی جھنڈا لہرایا۔

منگل کو یوکرین کے حکام نے کہا کہ انھوں نے خارکیف کی عمارت پر بغیر کسی خون خرابے کے دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جبکہ اس سلسلے میں 70 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔