’اپنی حکومت پر مایوسی، اعتزاز کی شہادت پر فخر ہے‘

اعتزاز حسن
،تصویر کا کیپشناعتزاز حسن نامی چودہ سال کے طالب علم ایک خود کش حملہ آور کو روکتے ہوئے ہلاک ہوئے

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختوخوا حکومت کی جانب سے اعتزاز حسن کے معاملے میں مایوس کن ردعمل دیا ہے۔

اعتزاز حسن نامی چودہ سال کے طالب علم نے ایک خود کش حملہ آور کو اپنے سکول میں داخل ہونے سے روکا اور اپنی جان اپنے سکول کے طلبا کو بچاتے ہوئے قربان کر دی۔

<link type="page"><caption> ’ڈر گئے تو اعتزاز کی قربانی رائیگاں چلی جائے گی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140110_aitzaz_friend_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ’میں اعتزاز حسن کے خاندان کے لیے ایک خیراتی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ میں خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر دیے جانے والے ردِعمل پر انتہائی مایوس ہوں۔‘

دوسری جانب تحریکِ انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ پر لکھا کہ ’چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخواہ حکومت پر تنقید کی ہے کہ اس نے اعتزاز حسن کی شہادت کے معاملے پر سُست ردِعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انہیں ’اعتزاز حسن کی شہادت پر فخر ہے اور وہ ایک قومی ہیرو ہیں۔‘

عمران خان نے اعتزاز حسن کے خاندان کے لیے ایک امدادی فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے اعتزاز حسن کے خاندان سے رابطہ نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اعتزاز کے خاندان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

اتوار کو انسانی حقوق کے ادارے انٹرنیشل ہیومن رائش کونسل نے اعتزاز حسن کے لیے بہادری کا ایوارڈ ’گلوبل بریوری ایوارڈ‘ دیے جانے کا اعلان کیا۔

ادارے کے وفد نے اعتزاز کے خاندان سے ملاقات بھی کی۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ 6 جنوری کو ہنگو شہر سے بیس کلومیٹر دور کوہاٹ روڈ پر ابراہیم زئی کے مقام پر پیش آیا تھا۔ جب ایک خود کش حملہ آور نے ایک سرکاری سکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

خود کش حملہ آور کی جیکٹ میں پانچ سے چھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد تھا۔

خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن بہت کم ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں بچوں کی موجودگی میں اُن سکولوں پر بم حملے کیے گئے ہوں۔