عراق: تشدد کے واقعات میں 70 افراد ہلاک

عراق میں حکام کے مطابق ملک میں تشدد کے مختلف واقعات میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں اکثریت شیعہ زائرین کی ہے۔ یہ حالیہ مہنیوں میں عراق میں ہونے والا بدترین تشدد ہے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد کے مضافاتی علاقے راشد میں شیعہ زائرین پر ہونے والے دو کار بم حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
ہزاروں کی تعداد میں شیعہ زائرین مقدس مقام کربلا جا رہے تھے کہ انھیں دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا۔
بغداد میں ہی پیر کو ہونے والے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تکریت شہر کی کونسل اور بیجی شہر میں شدت پسندوں کے حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔
اس کے علاوہ ملک کے شمالی شہر موصل میں بھی شیعہ زائرین کی بس پر فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسند اب روزانہ کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں صرف نومبر میں 659 افراد ہلاک ہوئے جس میں 565 عام شہری اور 94 سکیورٹی فورسز کے اہل کار شامل ہیں جب کہ جنوری سے اب تک 950 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 7150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سال 2013 میں سال 2008 کے بعد سب سے زیادہ پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پیر کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم عراق میں موجود القاعدہ حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے اور اس کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔
ایسے واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر شیعہ ملیشیا دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور انھوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تحفظ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عراق شام میں جاری تنازعے سے بھی متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔







