عراق: جنازے میں خودکش دھماکہ، 10 افراد ہلاک

عراق کے شمال میں واقع مقدادیہ میں ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس خودکش حملے میں بغداد سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مقدادیہ میں ایک سُنی جنگجو اور قبائلی رہنما کے بیٹے کے جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سنی جنگجو مدہر الشلال العراقی ایک دن پہلے ہی اپنے گھر کے قریب سڑک کے کنارے نصب بم میں ہلاک ہوئے تھے۔
<link type="page"><caption> بغداد میں شیعہ زائرین پر حملہ، 51 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131006_iraq_bomb_blasts_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
خودکش دھماکا اس وقت ہوا جب لوگ قبرستان میں تدفین کے لیے جمع تھے۔
اے ایف پی کے مطابق العراقی کا تعلق ’سہوا‘ یا بیداری گروپ سے تھا جس میں زیادہ تر سُنی قبائل کے وہ سابق جنگجو شامل ہیں جو وفاداریاں تبدیل کرکے امریکی فوج کی پشت پناہی سے القاعدہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔
2008 کے بعد عراق میں تشدد میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس اکتوبر کے مہینے میں پر تشدد واقعات میں 979 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 158 پولیس اہلکار، 127 فوجی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سال رواں میں اب تک 650 سے زیادہ شہری تشدد کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
شام میں جاری تنازعے کے اثرات عراق میں بھی نمایاں ہیں جہاں جہادی باغیوں کا تعلق عراق میں سنی عسکریت پسند گروہ اسلامی ریاست سے ہے۔







