بغداد: شیعہ زائرین پر حملہ، 51 افراد ہلاک

عراق میں حالیہ مہینوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے مطابق رواں سال عراق میں ابھی تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں شیعہ زائرین پر بم حملے میں کم از کم 51 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا جب عظیمیہ ضلعے میں زائرین ایک مزار کی طرف جا رہے تھے۔

شیعوں کی مرکزی قصبے بلاد میں ایک کیفے پر خودکش حملے میں 12 افراد کو ہلاک ہوئے جب کہ موصل میں مسلح افراد نے دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عراق میں حالیہ مہینوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سنیچر کو ہونے والے ان حملوں کی تا حال کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن حالیہ تشدد کا الزام عام طور پر القاعدہ سے منسلق سنی مسلم تنظیموں پر لگایا جاتا ہے۔

<link type="page"><caption> سلسلہ وار بم دھماکوں میں 47 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130930_baghdad_blasts_killing_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بغداد: مسجد میں بم دھماکے سے 35 ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130912_iraq_blasts_11sept_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

بغداد میں سنیچر کو ایک اور بم حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلاد میں جس کیفے کو سنیچر کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا اس پر اگست کے مہینے میں بھی ایک خودکش حملہ کیا گیا تھا۔

بلاد میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے جب کہ ان کے ارد گرد سنی آباد ہیں۔ کیفے پر سنیچر کو ہونے والے حملے میں 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔

موصل میں ہلاک ہونے والے دونوں صحافی ایک مقامی ٹی وی چینل الشرقیہ کے لیے وہاں فوٹیج بنا رہے تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں برسرِ اقتدار شیعہ حکومت ان کے تنقیدی کام سے خوش نہیں تھے۔

تشدد کے ایک اور واقعے میں بغداد کے شمال مشرقی علاقے مقدادیہ میں سڑک کے کنارے ایک بم دھماکے میں اطلاعات کے مطابق ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا وزارتِ دفاع نے کہا کہ سکیورٹی فورسز بائجی اور نینوا میں جھڑپوں کے دوران پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں 2008 جیسا خون خرابہ واپس نہ آ جائے۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق رواں سال عراق میں ابھی تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔