عراق: ماتمی تقریبات پر حملوں میں 23 افراد ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ایک شیعہ ماتمی جلوس پر یکے بعد دیگرے دو بم حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ حملہ واسط صوبے میں عاشورہ کے موقعے پر پیغمبرِ اسلام کے نواسے حسین بن علی کی شہادت کی یاد میں جاری ماتمی جلوس پر ہوا ہے۔
<link type="page"><caption> بغداد میں شیعہ زائرین پر حملہ، 51 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131006_iraq_bomb_blasts_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
دوسری جانب حکام کے مطابق دیالہ صوبے کے شہر السعدیہ میں ایک خودکش حملے میں شیعہ مسلک کے 15 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے ہیں۔
عراق میں شیعہ مذہبی تقریبات پر اکثر سنی شدت پسندوں کی جانب سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ جمعرات کے دوہرے حملے حفریہ کے قصبے میں ہوئے جو کہ بغداد سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بدھ کو بھی شیعہ زائرین پر ہونے والے مختلف دھماکوں میں حکام کے مطابق 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
امید کی جا رہی ہے کہ 20 لاکھ شیعہ افراد عراقی شہر کربلا زیارت کے لیے جائیں گے جہاں امام حسین کا مقبرہ ہے۔
2008 کے بعد عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس اکتوبر کے مہینے میں پر تشدد واقعات میں 979 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 158 پولیس اہلکار، 127 فوجی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سال رواں میں اب تک 650 سے زیادہ شہری تشدد کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
شام میں جاری تنازعے کے اثرات عراق میں بھی نمایاں ہیں جہاں جہادی باغیوں کا تعلق عراق میں سنی عسکریت پسند گروہ اسلامی ریاست سے ہے۔







