یمن: جاپانی سفارت کار حملے میں زخمی

سکیورٹی اہلکار صنعا کے سعودی جرمن ہسپتال کے باہر کھڑے ہیں جہاں جاپانی سفارت کار زیرِ علاج ہیں
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکار صنعا کے سعودی جرمن ہسپتال کے باہر کھڑے ہیں جہاں جاپانی سفارت کار زیرِ علاج ہیں

یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک جاپانی سفارت کار حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

یمن میں جاپانی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے یمن میں ایک جاپانی سفارت کار پر حملہ کیا تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان سفارت کار کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔

سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق سفارت خانے میں سیکنڈ سیکریٹری کے عہدے پر فائز سفارت کار پر نامعلوم افراد نے ان کے گھر کے قریب حملہ کیا اور حملے کے دوران پانچ بار چاقو سے وار کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق خنجر سے حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ حملہ آوروں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے مزاحمت کی۔

ان کے سر اور ہاتھ پر خنجر کی وجہ سے زخم آئے ہیں مگر ذرائع کے مطابق اب ان سفارت کاری کی حالت بہتر ہے لیکن وہ تاحال ہسپتال میں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک ٹیکسی جس پر دو مسلح شخص سوار تھے ان سفارت کار کی کار کے آگے آکر رکی جب وہ اپنے گھر سے سفارت خانے کی جانب نکلے تھے۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں علی عبداللہ صالح کے بعد سے عدم ستحکام کی صورت حال ہے اور وہاں القاعدہ سمیت کئی عسکری تنظیم موجود اور سرگرم ہے۔

علی عبداللہ صالح کے خلاف زبردست بغاوت کے نتیجے میں وہ سنہ 2011 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

حالیہ دنوں میں کئی سفارت کاروں اور مغربی ممالک کے باشندوں کو مسلح گروہوں نے ہلاک یا اغوا کیا ہے جبکہ بعض حملوں کے پیچھے القاعدہ اور شدت پسند بھی ہیں۔