شمالی یورپ میں شدید طوفان سے تین ہلاک

براعظم یورپ کے شمالی حصے میں واقع ممالک شدید طوفانی ہواؤں کی زد پر ہیں اور اب تک طوفان سے تین افراد کی ہلاکت اور دو کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سرد اور تیز ہواؤں کی وجہ سے متعدد ممالک میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے کنارے واقع یورپی شہروں کے ساحلوں پر گزشتہ کئی دہائیوں کی شدید ترین طوفانی لہریں ٹکرا سکتی ہیں۔
جرمنی کی بندرگاہ ہیمبرگ میں براہِ راست طوفان کے راستے میں ہے اور شہر کا مچھلی بازار اور دریائے البی کی قریبی گلیاں زیرِ آب آ چکی ہیں۔ ماہرین نے ہیمبرگ میں اونچی سمندری لہریں اٹھنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ لہریں شہر میں سنہ 1962 میں آنے والے سیلاب جتنی مہلک ہو سکتی ہیں جس میں 300 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ ہالینڈ میں بھی کچھ علاقے زیرِ آب آئے ہیں۔
زیور نامی یہ انتہائی طاقتور طوفان جمعرات کو شمالی یورپ تک پہنچا تھا اور اب تک طوفان سے برطانیہ میں دو اور ڈنمارک میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ایک ٹرک ڈرائیور اس وقت ہلاک ہوا جب دو سو کلومیٹر سے زیادہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا نے اس کا ٹرک الٹا دیا جبکہ ایک اور شخص انگلینڈ میں درخت گرنے سے مارا گیا۔
ڈنمارک میں ایک خاتون تیز ہواؤں کی وجہ سے بس الٹنے سے ہلاک ہوئیں جبکہ سویڈن کے جنوبی ساحل سے تقریباً بائیس آبی میل دور ایک کشتی کے عملے کے دو ارکان طوفان کی وجہ سے پانی میں گر گئے اور امدادی کارکن انہیں ڈھونڈ نہیں سکے۔

برطانیہ کے مشرقی ساحل پر گذشتہ ساٹھ سال میں سمندری لہروں میں اتنا اضافہ نہیں دیکھا گیا اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھ دہائیوں میں بدترین طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کی ماحولیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ طوفانی لہروں کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے اور لندن کی حفاظت کے لیے دریائے ٹیمز کے بند بند کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی برطانیہ میں گریٹ یارمتھ کے علاوہ شمالی ویلز سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
طوفانی ہواؤں کی وجہ سے آمد و رفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور یورپ میں کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ہالینڈ کی ایئر لائن کے ایل ایم نے 84 پروازیں منسوخ کی ہیں جبکہ 120 کو ایمسٹرڈیم کے بجائے جرمنی کے ہیمبرگ ہوائی اڈے بھیج دیا گیا۔
سکاٹ لینڈ کے گلاسگو، ایڈنبرا اور ایبرڈین ہوائی اڈوں سے بھی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔
شمالی انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں ٹرین کی پٹڑیوں اور ان سے متعلق دیگر آلات کو نقصان کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
سوئیڈن اور ڈنمارک میں بھی ٹرین کی سروس متاثر ہوئی ہے جبکہ سوئیڈن اور ڈنمارک سے جرمنی جانے والی کشتیوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔







