برلسکونی کو اطالوی پارلیمنٹ سے نکال دیا گیا

اٹلی کی سینیٹ نے سابق وزیرِ اعظم سلویو برلسکونی کو ان کے خلاف ٹیکس فراڈ کے ایک کیس میں مجرم پائے جانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا ہے۔
سلویو برلسکونی کا شمار اٹلی میں گذشتہ بیس سال کے اہم ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ اب انہیں دیگر مقدمات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اب انہیں استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
<link type="page"><caption> برلسکونی سابقہ بیوی کو اڑتالیس ملین ڈالرسالانہ دینے پر راضی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121228_slivo_berlousconi_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
اپنے حامیوں سے روم میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کے لیے ایک یومِ سوگ ہے۔
سینیٹ میں ان کی رکنیت منسوخ کرنے کے سلسلے میں ووٹ سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ نتیجہ جو بھی ہو وہ سیاست میں ہی رہیں گے اور ’اٹلی کی بہتری کے لیے‘ وہ اپنی جماعت فورزہ اٹالیہ کی قیادت جاری رکھیں گے۔
77 سالہ برلسکونی کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی جدوجہد پارلیمنٹ کے باہر جاری رکھیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال اکتوبر میں سلویو برلسکونی کو ٹیکس فراڈ کے ایک مقدمے میں میلان کی ایک عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعدازاں کم کر کے ایک سال کر دیا گیا تھا۔
اٹلی کے قوانین کے مطابق چونکہ سلویو برلسکونی کی عمر اس وقت 77 سال ہے اس لیے انہیں جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ سلویو برلسکونی کوگھر پر نظربند کیا جا سکتا ہے یا ان سے فلاحی کام کرائے جائیں گے۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ برلسکونی کو انتہائی بے عزت کر کے پارلیمان سے نکالا گیا ہے اور انہیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایک سزا یافتہ مجرم کسی عوامی عہدے پر نہیں رہ سکتا۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سابق وزیرِ اعظم کے سیاسی عزائم کو ایک بڑا نقصان ہے تاہم برلسکونی ابھی بھی منظرِ عام پر رہیں گے، وہ اپنی جماعت کی پارلیمان کے باہر قیادت جاری رکھیں گے جو کہ ایک اہم پارلیمانی پارٹی ہے۔
اطالوی قانون کے مطابق بدعنوانی کے بعض معاملوں کی جانچ کے لیے مدت طے ہوتی ہے اور اس مدت کے ختم ہوجانے پر اسے بند کر دیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے رواں سال جون میں ہی ایک اطالوی عدالت نے ارب پتی سلویو برلسکونی کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور ایک کم عمر طوائف سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرائم میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔
استغاثہ کا الزام تھا کہ میلان کے نزدیک وزیرِاعظم برلسکونی کی حویلی میں ’بنگا بنگا‘ پارٹیوں کا انتظام ہوتا تھا جہاں ان کی ملاقات سترہ سالہ مراکشی لڑکی مز مہروگ سے ہوئی۔
اطالوی وزیرِاعظم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کم عمر جسم فروش لڑکی کے ساتھ سیکس کیا اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ مراکش کی خاتون رقاصہ مز مہروگ جو روبی ڈانسر کے طور پر جانی جاتی ہیں، بھی برلسکونی کے ساتھ سیکس کی تردید کرتی رہی ہیں۔







