برلسکونی کی ٹیکس فراڈ کیس میں سزا برقرار

ارب پتی برلسکونی کو مختلف الزامات میں تیس مقدمات کا سامنا ہے
،تصویر کا کیپشنارب پتی برلسکونی کو مختلف الزامات میں تیس مقدمات کا سامنا ہے

اٹلی کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق وزیراعظم سلویو برلسکونی کو ٹیکس فراڈ کیس میں ملنے والی ایک سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں سلویو برلسکونی کو ٹیکس فراڈ کے ایک مقدمے میں میلان کی ایک عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں کم کر کے ایک سال کر دیا گیا تھا۔

برلسکونی نے سزا کے خلاف ایک اپیل کورٹ میں درخواست دی تھی تاہم عدالت نے ٹیکس میں دھوکا دہی کے جرم میں دی گئی سزا برقرار رکھی۔

<link type="page"><caption> اٹلی:برلسکونی کی درخواست مسترد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/01/130114_silvio_berlusconi_trial_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’خواتین نے عریاں رقص کیا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/04/120416_silvio_berlusconi_party_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

اٹلی کے قوانین کے مطابق چونکہ سلویو برلسکونی کی عمر اس وقت 76 سال ہے اس لیے انہیں جیل نہیں بھیجا جائے گا۔

سلویو برلسکونی کوگھر پر نظربند کیا جا سکتا ہے یا ان سے فلاحی کام کرائے جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف اپیل پر تین دن کی سماعت کے بعد اگرچہ سلویو برلسکونی کی سزا کو برقرار رکھا ہے لیکن اس کے ساتھ عدالت نے ان کو پانچ سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیے جانے کی سزا پر نظرثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیے جانے کی سزا پر عدالتی نظرثانی کے بعد سلویو برلسکونی سینیٹر رہ سکیں گے اور وہ اپنی جماعت پیپل آف فریڈم پارٹی یعنی پی ڈی ایل کے سربراہ بھی رہیں گے۔

روم میں بی بی سی کی نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اگرچہ عوامی عہدے سے متعلق سزا پر نظرثانی کا کہا گیا ہے لیکن سابق وزیراعظم کے لیے عدالتی حوصلہ شکن ہے۔

نامہ نگار کے مطابق برلسکونی اب بھی ملک کی ایک بااثر شخصیت رہے گے اور ان پر سیاسی پابندی سے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اس سے حکومت کو عدم استحکام سے دوچار ہونے کا حظرہ ہے۔

اٹلی کے صدر جارجیو نیپولیتانو نے عدالتی فیصلے کے بعد ایک بیان میں لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

سابق وزیراعظم برلسکونی اور ديگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی فلم کے حقوق قیمت سے زیادہ داموں میں دو غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے خریدے تھے۔اطلاعات کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں ان کےکنٹرول میں تھیں۔

سابق اطالوی وزیراعظم نے اس سزا کو ’عدالت کی جانب سے ہراساں کرنے کی ناقابلِ برداشت کوشش‘ قرار دیا تھا۔

انہیں اس سے قبل اپنے کاروبار سے متعلق کئی بار مقدمات کا سامنا رہا ہے لیکن ان میں انہیں یا تو باعزت بری کر دیا گیا ہے یا سماعت نے حد سے زیادہ وقت لے لیا اور مقدمہ خارج کر دیا گیا۔

اطالوی قانون کے مطابق بدعنوانی کے بعض معاملوں کی جانچ کے لیے مدت طے ہوتی ہے اور اس مدت کے ختم ہوجانے پر اسے بند کر دیا جاتا ہے۔

برلسکونی نے کریما المحروغ عرف روبی کے ساتھ سیکس کرنے کی تردید کی تھی
،تصویر کا کیپشنبرلسکونی نے کریما المحروغ عرف روبی کے ساتھ سیکس کرنے کی تردید کی تھی

اس سے پہلے رواں سال جون میں ہی ایک اطالوی عدالت نے ارب پتی سلویو برلسکونی کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور کم عمر طوائف سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرم میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔

سلویو برلسکونی پر الزام تھا کہ انہوں نےکم عمر لڑکی سے جنسی تعلق قائم کیا۔

استغاثہ کا الزام تھا کہ میلان کے نزدیک وزیرِاعظم برلسکونی کی حویلی میں ’بنگا بنگا‘ پارٹیوں کا انتظام ہوتا تھا۔ جہاں ان کی ملاقات سترہ سالہ مراکشی لڑکی مز مہروگ سے ہوئی۔

اطالوی وزیرِاعظم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کم عمر جسم فروش لڑکی کے ساتھ سیکس کیا اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ مراکش کی خاتون رقاصہ مز مہروگ جو روبی ڈانسر کے طور پر جانی جاتی ہیں، بھی مسٹر برلسکونی کے ساتھ سیکس کی تردید کرتی رہی ہیں۔