امریکی بمبار طیاروں کی پرواز کی نگرانی کی گئی: چین

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی نئی فضائی دفاعی حدود میں پرواز کرنے والے امریکی بمبار طیاروں کی نگرانی کی ہے۔
اس سے پہلے امریکی حکام نے کہا تھا کہ امریکہ کے دو بی52 بمبار طیاروں نے نئے چینی دفاعی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی بحیرۂ چین میں متنازع جزیروں کی فضائی حدود میں پرواز کی ہے۔
سنیچر کو چین نے اپنی فضائی دفاعی حدود کا تعین کیا تھا اور چین کا اصرار تھا کہ امریکی بمبار طیارے ان حدود کا احترام کریں ورنہ انہیں ’ہنگامی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔
تاہم متعلقہ فضائی حدود میں امرکی بمبار طیاروں کی پرواز کے بعد چین کی وزارتِ دفاع کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کسی ’ہنگامی دفاعی اقدامات‘ کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔
بیان کے مطابق ’چین کی فضائیہ نے امریکی بمبار طیاروں کی مکمل نگرانی کی اور انھیں بر وقت امریکہ کے خاص ساخت والے طیاروں کے طور پر شناخت کیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ چین مشرقی بحیرۂ چین کی فضائی حدود میں تمام طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گا۔
بیان کے مطابق ’چین متعلقہ فضائی حدود کو چلانے اور اسے کنٹرول کرنے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔‘
واضح رہے کہ چین کی طرف سے نئی دفائی فضائی حدود قرار دیے جانے والا علاقہ متنازع ہے اور ان میں وہ جزائر بھی شامل ہیں جن پر جاپان بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان متنازع جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔
جاپان نے چین کی جانب سے فضائی دفاعی حدبندی کو غلط قرار دیا ہے اور جاپان کی دو بڑی ایئر لائنوں نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ جاپانی حکومت سے اجازت مانگیں گی کہ انہیں ان نئے فضائی قوانین پر عمل نہ کرنا پڑے۔
اس سے پہلے پنٹاگون کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی طیاروں نے ’عمومی طریقۂ کار‘ پر عمل کیا تھا۔
پینٹاگون سے امریکی کرنل سٹیو وارن نے بتایا تھا کہ امریکی جہازوں نے سینکاکو کے علاقے میں پرواز کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے عمومی طریقہ کار پر ہی عمل کیا ہے جس میں فلائٹ پلان نہ بتانا، یا ریڈیو پر پیشگی اطلاع نہ دینا اور فریکوئنسی کا اندراج نہ کروانا شامل ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چین کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔‘
امریکی حکام نے بتایا کہ دونوں بمبار طیارے غیر مسلح تھے اور انہوں نے پیر کو گوام سے پرواز شروع کی۔ بعد میں دونوں طیارے گوام لوٹ گئے تھے۔
امریکہ کے 70 ہزار فوجی جاپان اور جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔ امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ وہ نئی چینی حدود کو نہیں مانتا۔
امریکی وزیر دفاع چگ ہیگل نے اسے ’علاقے کے موجودہ توازن کو بگاڑنے کی کوشش‘ سے تعبیر کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’چین کے اس اعلان سے علاقے میں امریکی فوجی آپریشنز میں تبدیلی نہیں آئے گی۔‘
اس سے پہلے چین کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی ہوائی جہاز کو اس علاقے میں اپنی پرواز کا منصوبہ لازمی دینا ہوگا، اور اسے ریڈیو کے ذریعے دو طرفہ رابطہ رکھنے اور’اپنی شناخت کے بارے میں سوالات‘ کے بر وقت اور صحیح جوابات دینا ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ جو جہاز اپنی شناخت کے حوالے سے عدم تعاون کا مظاہرہ کرے گا یا پھر ہدایات پر عمل پیر نہیں ہو گا تو اس کے خلاف چینی فوج ہنگامی دفاعی اقدامات کرے گی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے اپنی ویب سائٹ پر ایک نقشہ شائع کیا ہے جو بحیرۂ مشرقی چین کے وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ہے جس میں جنوبی کوریا اور جاپان کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔
چین میں وزارتِ دفاع کے ترجمان یانگ یجونگ نے ملک کی سرکاری ویب سائیٹ پر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین کی طرف سے اس علاقے کی فضائی حد بندی کا مقصد ملک کی خودمختاری، زمینی اور فضائی سکیورٹی قائم کرنا اور پروازاوں کو ترتیب میں رکھنا ہے۔







