برطانوی مسلمان کا آزاد اسلامی ریاست کے لیے ’جہاد‘

القاعدہ سے منسلک ایک گروہ میں شامل ہو کر شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے ایک برطانوی شہری نے بتایا کہ انھوں نے برطانیہ چھوڑ کر کیوں اس لڑائی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
برطانیہ میں ساوتھ سی، ہیمپشائر کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ افتخار جمان نے نیوز نائٹ پروگرام میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ عراق اور بلادِ شام میں اسلامی ریاست (آئی ایس آئی ایس) نامی ایک گروہ کے ساتھ مل کر اس علاقے میں اسلامی قوانین کے تحت ایک آزاد ملک کے قیام کے لیے جہاد کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ ان کا فرض ہے کیوں کہ شام میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔
جمان کے گھرانے کا تعلق بنگلہ دیش ہے اور وہ اس سال موسمِ بہار میں برطانیہ چھوڑ کر شام چلےگئے تھے۔
شام میں وہ کس جگہ موجود ہیں، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انھوں نے اپنے بھائی کے ذریعے سیٹلائٹ فون پر بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ پر بات کی۔
انھوں کہا: ’ہم آئی ایس آئی ایس کے ساتھ ہیں۔ ہم خدا کا قانون، اللہ کا قانون قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ میرا فرض ہے ۔۔۔ لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے اور مسلمان مارے جا رہے ہیں۔‘
دریں اثنا برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ٹائمز اخبار میں شائع ہونے والی ان رپورٹوں کا جائزہ لے رہا ہے جن کے مطابق حالیہ ہفتوں میں شام میں چار برطانوی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ نے شام کے بارے میں پہلے ہی سفری ہدایت جاری کر رکھی ہے اور جو کوئی بھی شام جا رہا ہے وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شام میں اعتدال پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ شام کو غیر ملکی جنگجوؤں کی نہیں بلکہ انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ دفترخارجہ نے کہا کہ شام کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رجسٹرڈ امدادی اداروں کو امداد دی جائے تاکہ وہ شام میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
جمان کے بھائی مستقیم کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان جمان کے جہاد میں شامل ہونے کے فیصلے کو سمجھ سکتا ہے۔ ایسا جہاد جس کا مقصد خلافت کا قیام ہے، ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جس میں اسلامی قوانین نافذ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ اگر وہ اس جہاد میں ہلاک ہو گئے تو ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی اور وہ ایک اعلیٰ اور ارفع مقصد کے لیے اپنی جان دیں گے۔
مستقیم نے کہا کہ ان کے بھائی میں یہ تبدیلی ایک عرصے عمل میں آ رہی تھی۔
جمان نے شام جانے سے پہلے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جو پیغام چسپاں کیا اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ وہ انور اولعولقی کی تعلیمات سے متاثر ہیں جو سنہ 2011 میں یمن میں ہلاک ہو گئے تھے اور جن کے مطابق مغربی اہداف کو نشانہ بنانا جائز ہے۔

جمان شام سے بھی ٹوئٹر پیغامات بھیجتے رہے ہیں اور ان کے دو ہزار پڑھنے والے ہیں۔
برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے مطابق شام کی لڑائی میں شامل برطانوی شہریوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے لیکن ساتھ ہی یہ خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جب وہ واپس برطانیہ آئیں گے تو یہ عناصر ملک کے اندر سکیورٹی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
جمان نے نیوز نائٹ پروگرام میں کہا کہ وہ برطانیہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں کیونکہ ان کا برطانیہ آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا برطانیہ میں بھی اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے۔ اس سوال کے جواب پر انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ انسانیت کے لیے سب سے بہترین مذہب ہے۔







