سعودی عرب: تصادم میں دو افراد ہلاک، متعدد زخمی

سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ملازمین اور پولیس کے درمیان تصادم میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
یہ تصادم سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک ضلعے منفوحہ میں اس وقت رونما ہوا جب تارکین وطن ملازمت کے نئے قانون کے خلاف غیر ملکی ملازمین احتجاج کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تین نومبر تک اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔
پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ضمن میں سینکڑوں افراد کو ریاض کے جنوب میں واقع منفوحہ کے نواحی علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک شخص کا تعلق سعودی عرب سے ہے جبکہ دوسرے شخص کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
حکام نے کہا کہ اس ضمن میں 70 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 560 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ سعودی سکیورٹی فورسز حفاظتی لباس میں ہیں اور بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ڈنڈوں کا استعمال کر رہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب غیر ملکی مظاہرین نے سنیچر کو فسادات برپا کرنے کی کوشش کی، سعودی باشندوں پر حملے کیے اور دوسرے غیر ملکی باشندوں کو پتھروں اور چاقو سے حملہ کیا تو انھوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منفوحہ میں تارکین وطن کی بڑی تعداد رہتی ہے اور ان میں زیادہ تر افراد مشرقی افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اتوار کو عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے منفوحہ ضلعے کو محاصرے میں لے لیا ہے جبکہ وہاں نیشنل گارڈ اور سپیشل فورسز کی نفری بھی روانہ کی گئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا کہ سینکڑوں بچے، خواتین اور مردوں کو پولیس حراست میں لے کر انھیں ان کے ممالک بھیج رہی ہے۔
گذشتہ سوموار کو سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق محکمۂ محنت کے اہلکاروں نے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر ہزاروں افراد کو حراست میں لیا تھا۔







