پیرو: 1000 سال پرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو دو حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں جو ایک ہزار سال سے بھی قدیم قرار دی جا رہی ہیں۔
دارالحکومت لیما میں ملنے والی یہ لاشیں ایک بالغ مرد اور ایک بچے کی ہیں اور بالکل درست حالت میں ہیں۔
یہ لاشیں ایک قدیم مذہبی مقام سے ملی ہیں جہاں 1981 سے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کا کام جاری تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بالغ فرد کی موت کے وقت بچے کو دیوتاؤں کو نذرانے کے طور پر زندہ دفن کیا گیا۔
جس مقام سے یہ حنوط شدہ لاشیں ملیں، وہ واری نامی تہذیب کی عبادت گاہ تھی جس کا وجود سو سے چھ سو سال قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
محققین کو وہاں کچھ دیگر چیزیں بھی ملی ہیں جن میں گنی پِگز کی باقیات اور بلی کے نقوش والے مرتبان شامل ہیں۔
محقق گلیڈز پاز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’تیس سال کی کھدائی کے بعد یہ پہلی اہم ترین دریافت ہے کیونکہ یہ حنوط شدہ لاشیں مکمل ہیں۔‘
یہ لاشیں بیٹھی ہوئی حالت میں ہیں، ان کے بدن پر مکمل لباس ہے اور یہ رسی میں لپٹے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اس مقام سے سامنے آنے والے ستر مقبروں میں سے ملنے والی تیسری مکمل دریافت ہے۔
سنہ 2010 میں ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چار بچوں کے ہمراہ ایک عورت کی باقیات دریافت کی تھیں اور سنہ 2008 میں یہاں سے ایک نو عمر لڑکی کی باقیات ملی تھیں۔
یہ مذہبی مقام ڈھائی ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے مینار بیس میٹر تک بلند ہیں۔ اب تک اس مقام کے صرف 40فیصد حصے کی کھدائی کی گئی ہے۔
واری تہذیب شمالی پیرو کے ساحلی علاقوں میں پانچ سو سے دسویں صدی عیسوی کے درمیان پھلی پھولی۔
تحریری ریکارڈ نہ ہونے کے باعث ان کے بارے میں بہت کم معلومات میسر ہیں۔







