’ڈرائیونگ سے بیضہ دانی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ‘

ایک قدامت پسند سعودی عالم کے مطابق ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کی بیضہ دانیوں (ovaries) کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
شیخ صالح کی جانب سے یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق کے لیے مہم چلانے والی تنظیم ’وومن ٹو ڈرائیو‘ کے کارکن اس مہم کو تیز تر کر رہے ہیں۔
شیخ صالح نے نیوز ویب سائٹ sabq.org کو بتایا کہ اگر کوئی عورت گاڑی چلائے گی تو اس سے اس کے رحم پر اثر پڑے گا اور اس کے پیڑو کی ہڈی (pelvis) اوپر کی جانب چلی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ جو خواتین باقاعدگی سے گاڑی چلاتی ہیں انھیں بچوں کی پیدائش کے وقت طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق شیخ صالح سعودی عرب میں خواتین کو مزید حقوق دینے کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق کے لیے مہم چلانے والی تنظیم خواتین پر زور دے رہی ہے کہ وہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 26 اکتوبر کو گاڑی چلائیں۔
یہ مہم ٹوئٹر پر شروع کی گئی اور اب تک اس پر 11,000 سے زیادہ افراد نے شمولیت اختیار کی ہے۔
سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے کی پابندی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی پر عمل پولیس کے ذریعے کروایا جاتا ہے جس میں جرمانہ اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ سعودی عرب میں صرف مردوں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کے خلاف کوئی باقاعدہ قانون نہیں ہے لیکن ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا نہیں کیا جاتا اور اس بنا پر انہیں ڈرائیونگ کرنے پر گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
آج سے ایک برس پہلے ڈرائیونگ پر لگنے والی پابندی کے خلاف سعودی خواتین نے ملک میں 20 سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑا مظاہرہ کیا تھا۔ ان میں سے کئی خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا اور کئی ایک کو سزائے قید دی گئی تھی۔







