بچہ چوروں کے خلاف آپریشن، 92 بچے بازیاب

چین میں پولیس نے بچوں کے اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کر کے 92 بچوں کو بازیاب اور 300 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
عوامی تحفظ کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں گیارہ صوبوں کی پولیس نے حصہ لیا۔
وزارت کے بیان کے مطابق بچوں کو اغوا کرنے اور ان کی خریدوفروخت میں ملوث افراد اس کارروائی کا ہدف تھے۔
جمعہ کو رات گئے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اغوا کار بچوں کی ملک کے وسطی اور جنوب مغربی علاقوں سے اغوا کرتے اور پھر انہیں دیگر صوبوں میں فروخت کر دیا جاتا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ جس گروپ کے ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے وہ ملک کے وسطی صوبے ہینان کے علاوہ یوننان اور سیچوان سے بھی بچے اغوا کرتا تھا اور خریدتا اور بیچتا تھا۔
اغوا شدہ بچوں کو اکثر گود لینے، مزدوری یا گھریلو ملازم رکھنے کے لیے بیچا جاتا ہے۔
بچوں کی خریدوفروخت چین میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور ملک میں اس قسم کے پولیس آپریشن اب ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔گزشتہ برس بھی ایسے ہی ایک آپریشن میں 802 افراد کو گرفتار کر کے 181 بچے بازیاب کروائے گئے تھے۔
چین میں بچوں کی خریدو فروخت کی اہم وجوہات میں غربت، خاندانی منصوبہ بندی کے سخت قوانین اور لڑکوں کو فوقیت دینے کی روایت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں بچہ گود لینے کی اس کمزور پالیسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس کا استحصال ممکن ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی حکومت اب ملک میں بچے خریدنے والے افراد اور اپنے بچے بیچنے والے والدین کی سرکوبی کے لیے سخت قوانین متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔







