’حملہ آور الیکسز ذہنی امراض میں مبتلا تھا‘

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں پیر کو بحریہ کے ایک اڈے پر فائرنگ کر کے بارہ افراد کو ہلاک اور آٹھ افراد کو زخمی کرنے والے حملہ آور ایرن الیکسز ذہنی امراض میں مبتلا تھے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرن الیکسز ماضی میں ذہنی امراض کا علاج کرواتے رہے ہیں۔
چونیتس سالہ الیکسز کا دماغی خلل، بے خوابی اور آوازیں سنائی دینے کے امراض کا علاج ہوتا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> امریکہ میں اسلحہ پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121216_us_striker_gun_control_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اسلحہ پر کنٹرول کے لیے ٹھوس تجاویز دیں: اوباما</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121220_obama_gun_control_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
بحریہ کے اڈے پر فائرنگ کے واقعے کے ایک روز بعد منگل کو بھی واشنگٹن سوگوار ہے اور وائٹ ہاؤس پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔
ابھی تک حملہ آور کے عزائم کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ ایرن الیکسز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بدھ مت قبول کر چکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرن الیکسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کی شناخت سامنے آنی شروع ہوگئی ہیں اور ان کی عمریں چھیالیس سال سے تہتر برس بتائی جاتی ہیں۔
ایرن الیکسز بعد میں پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
تاحال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور الیکسز نے 2007 سے 2011 کے دوران بحریہ کے ریزرو دستوں میں بطور پیٹی افسر تھرڈ کلاس خدمات سرانجام دی تھیں۔
یہ واضح نہیں کہ اس نے بحریہ کیوں چھوڑی تاہم امریکی بحریہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسے بدنظمی کے متعدد واقعات کے بعد نکالا گیا تھا۔
امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق الیکسز کو دو مرتبہ حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الیکسز نے اس سخت نگرانی والے اڈے کی ایک راہداری اور کیفے ٹیریا میں موجود افراد پر گولیاں برسائیں۔
واشنگٹن ڈی سی کی پولیس کی سربراہ کیتھی لینیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ پولیس اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ کر رہا تھا۔
امریکی نیوی کے مطابق واشنگٹن نیوی یارڈ امریکی بحریہ کا سب سے پرانا ساحلی ٹھکانا ہے اور اسے پہلی بار 19 ویں صدی میں کھولا گیا تھا۔اس یارڈ میں تقریباً تین ہزار افراد کام کرتے ہیں۔







