’ہر ملک کو کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہے‘

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمان کی طرف سے شام پر حملے کے خلاف ووٹ دینے سے فرانس کا شام کے خلاف سخت کارروائی کا عزم نہیں بدلا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ تمام ممکنہ راستوں پر غور کیا جا رہا ہے اور چند دنوں کے اندر اندر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بیان سے قبل امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ امریکہ ممکنہ حملے کے لیے دوسرے ممالک کے تعاون کی کوششیں جاری رکھے گا۔

فرانسیسی اخبار لا موند کے ساتھ انٹرویو میں اولاند نے کہا کہ برطانوی دارالعوام کے ووٹ سے ان کے شام کے خلاف حملے کے عزم پر کوئی فرق نہیں پڑا: ’ہر ملک کارروائی میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ بات برطانیہ پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسے فرانس پر۔‘

اولاند نے کہا کہ شام کے خلاف کارروائی کے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک اسے حق بجانب کرنے والے شرائط پوری نہ ہوں۔

تاہم انھوں نے اگلے بدھ سے قبل فوجی حملے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ اس دن فرانسیسی پارلیمان اس معاملے پر بحث کرے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر برطانوی وزیرِاعظم کی طرح پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

دریں اثنا جرمنی کی حکومت نے کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

اس سے پہلے برطانوی دارالعوام کے اراکین نے حکومت کی جانب سے شامی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔حکومت کی جانب سے دارالعوام میں پیش کی گئی قرارداد کو تیرہ ووٹوں سے شکست دی گئی۔ قرارداد کے حق میں 272 جبکہ مخالفت میں 285 ووٹ آئے۔

’بہترین مفاد‘

برطانوی حکومت کو دارالعوام میں شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ میں شکست کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ ’اپنے بہترین مفاد‘ میں قدم اٹھائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’جو ممالک کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ تاہم شامی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ’صدر براک اوباما کا فیصلہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہو گا۔‘

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کانگریس کے اراکین کو شامی کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

جان کیری نے اس موقع پر کہا کہ واشنگٹن دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی کا تابع نہیں ہو سکتا۔

ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والی ممبر ایلیئٹ اینجل نے بریفنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے کہا ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور بشار الاسد حکومت نے سمجھتے بوجھتے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے‘۔

ایلیئٹ نے بتایا کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ’شام کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کی مانیٹرنگ سے ملے ہیں‘۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ ایک قریبی اتحادی ہے اور امریکہ برطانیہ سے شام کے بحران سے متعلق مشاورت کرتا رہے گا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کا مختصر اجلاس ہوا۔ تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں پانچوں ممالک میں تفریق واضح رہی۔

ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں روس اور چین ایک طرف جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس دوسری جانب رہے۔