فلسطین، اسرائیل امن مذاکرات تعطل کا شکار

فلسطینی امن مذاکرات کاروں نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے پیر کے روز متوقع ملاقات اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تین فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد منسوخ کر دی ہے۔
ایک فلسطینی اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات کی نئی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔
<link type="page"><caption> اسرائیلی جیل میں فلسطینی کی ہلاکت پر ہنگامے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130225_palestine_funeral_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے غربِ اردن میں قلندیہ مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں تین فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے۔
فلسطین کے طبی امداد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں انیس فلسطینی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایک بڑے ہجوم نے اسرائیلی فوجیوں کی ایک مبینہ دہشتگرد کی گرفتاری کے لیے کی گئی کارروائی کے دوران پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جس کے بعد ’مظاہروں کو منتشر کرنے کے طریقہ کار‘ پر عمل کیا گیا۔
فلسطینی طبی کارکنان کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے افراد کو گولیاں ماری گئیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان تیس سالہ روبین ابد فارس، بائیس سالہ یونس جاجوہ اور بیس سالہ جہاد اسلان تھے۔
فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے بیچ براہِ راست مذاکرات حال ہی میں تین سال کے تعطل کے بعد شروع ہوئے تھے۔
اس سے پہلے امن مذاکرات سنہ دو ہزار دس میں مقبوضہ غربِ اردب میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے کی وجہ سے ناکام ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لفٹینینٹ کرنل پیٹر لرنر نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز یروشلم سے تقریباً بارہ کلومیٹر شمال میں ایک ’دہشتگرد‘ کو حراست میں لینے کے لیے گئیں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران سینکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیلی فوجیوں پر ’پتھروں سے حملہ‘ کر دیا جس سے فورسز کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اتنا بڑا ہجوم جس کی تعداد فوجیوں سے کہیں زیادہ تھی، جب حملہ آور ہوا تو فوجیوں کے پاس جان بچانے کے لیے گولیاں مارنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور انہیں اپنے دفاع کے لیے یہ کرنا پڑا۔‘
فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِاعظم رامی حمداللہ نے ان ہلاکتوں کی مڑحمت کی اور کہا کہ ’اس جرم سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔‘







