چالیس سال بعد جنگل چھوڑنے پر تیار

ویتنام میں چار دہائیوں قبل ہونے والی جنگ کے دوران جنگل میں پناہ لینے والے باپ اور بیٹے کو جنگل سے باہر آنے پر آمادہ کر لیا گیا ہے۔
بیاسی سالہ ہو وان لانگ ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی بیوی اور دو بچوں کی ہلاکت کے بعد اپنے ایک بیٹے کو لے کر جنگل میں چلے گئے تھے اور دنیا سے قطع تعلق کر لیا تھا۔
کافی عرصے تک ان کا کوئی پتہ نہیں تھا اور جب وہ وسطی صوبے کویگ نگائی کے گھنے جنگلات میں ملے تو انہیں بات کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔
حکام کے مطابق ہو وان لانگ مقامی زبان کے چند الفاظ ہی جانتے ہیں۔
ویت نام میں میڈیا کے مطابق ہو وان لانگ کا بھائی بیس سال قبل ان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر انہیں جنگل سے باہر آنے کے لیے رضامند نہیں کر سکا تھا۔
جنگل میں یہ باپ بیٹا صرف لنگوٹی پہنتے تھے اور خود بنائی ہوئی کلہاڑی کی مدد سے درخت کاٹتے تھے۔ وہ صرف مکئی اور پھل کھا کر گزارا کرتے تھے۔
یہ دونوں جنگل میں درخت پر بنائے گئے ایک گھر میں رہتے تھے جو زمین سے پانچ میٹر کی اونچائی پر تھا۔ اس گھر میں ان کے پاس شکار کے لیے تیر اور چھریاں بھی تھیں۔
ان دونوں سے ملنے والے علاقائی افراد ان کا جنگلی حلیہ اور ان کے عجیب و غریب اشارے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مقامی افراد نے ان دونوں کے بارے میں اپنے سرداروں کو بتایا جنہوں نے ان کی کھوج لگانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی۔
جمعرات کو پانچ گھنٹوں کی تلاش کے بعد اس ٹیم نے اس باپ بیٹے کو ڈھونڈ لیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہو وان لانگ باردوی سرنگ کے دھماکے میں اپنے خاندان کے افراد کی ہلاکت کے بعد صدمے میں آکر جنگل میں چلے گئے تھے۔
اب ان دونوں کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے جو انہیں اس معاشرے کا حصہ بنانے میں پہلا قدم ہے۔







