مگابے کی کامیابی پر امریکہ اور برطانیہ کے خدشات

انتخابات میں صدر رابرٹ مگابے کا مقابلہ وزیر اعظم مورگن چنگرائے سے تھا
،تصویر کا کیپشنانتخابات میں صدر رابرٹ مگابے کا مقابلہ وزیر اعظم مورگن چنگرائے سے تھا

امریکہ اور برطانیہ نے زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے کی ساتویں انتخابی جیت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ نتائج ’لوگوں کے اظہارِرائے کی قابلِ اعتماد نمائندگی‘ نہیں کرتے۔

بدھ کو ہونے والے ان انتخابات میں 89 سالہ مگابے نے 61 فیصد ووٹ حاصل کیے جب کہ وزیرِاعظم مورگن چنگیرائی کے حصے میں 34 فیصد ووٹ آئے۔

تاہم چنگیرائی نے انتخابات کو دھاندلی پر مبنی کہہ کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) مگابے کی زانو پی ایف پارٹی کے ساتھ مزید کام نہیں کرے گی اور سرکاری اداروں کا بائیکاٹ کرے گی۔

بڑے مغربی گروپوں کو انتخابات میں بطورِ مبصر نہیں بلایا گیا تھا۔

امریکہ نے ان انتخابات کو ’عیب دار‘ کہا ہے۔

امریکی وزیرِ داخلہ جان کیری نے کہا: ’مقامی اور علاقائی مبصروں کی جانب سے رپورٹ کردہ بے ضابطگیوں کی اطلاعات کے مطابق امریکہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ انتخابات زمبابوے کے عوام کے اظہارِرائے کی قابلِ اعتماد نمائندگی نہیں کرتے۔‘

برطانیہ نے بھی اس بات پر ’شدید خدشات‘ کا اظہار کیا ہے کہ رپورٹوں کے مطابق ووٹروں کی بڑی تعداد کو پولنگ سٹیشنوں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے تمام الزامات کی مکمل چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی دوران یورپی یونین نے بھی انتخابات میں ’مبینہ بے ضابطگیوں اور نامکمل شرکت‘ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین نے مگابے اور ان کے اعلیٰ مشیروں پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

انتخابات پر سب سے زیادہ تنقید زمبابوے الیکشن سپورٹ نیٹ ورک نامی تنظیم کی جانب سے ہوئی، جس کے سات ہزار مبصرین نے انتخابات کا جائزہ لیا۔

تنظیم کے مطابق ووٹر رجسٹریشن کے مسائل کی وجہ سے دس لاکھ ووٹر اپنا ووٹ نہیں ڈال سکے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جنھیں ایم ڈی سی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم افریقی یونین نے بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ان انتخابات کو پر امن اور ضابطے کے مطابق بتایا ہے۔ انتخابی امور پر نظر رکھنے والی ایک مقامی گروپ نے بھی ان انتخابات کو صحیح قرار دیا ہے۔

افریقی یونین کی جانب سے مبصرین کی سربراہی نائیجیریا کے سابق صدر اولیس گن اوباسانجو کر رہے تھے۔

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انتخابات کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آيا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس میں عوام کی مرضی شامل نہیں تھی۔

ہفتے کے روز الیکشن کمیشن کے نو میں سے ایک رکن نے انتخابات کے انعقاد پر اعتراضات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس سے پہلے وزیر اعظم مورگن چنگرائی کہہ چکے ہیں کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور وہ قانونی کارروائی کریں گے۔

گذشتہ انتخابات میں تشدد کے بڑے واقعات کے بعد 2009 سے دونوں جماعتیں سیاسی اتحادی رہی ہیں۔

زمبابوے کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف جماعت نے 210 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں 137 نشستیں حاصل کی ہیں۔

رابرٹ مگابے سنہ انیس سو ستاسی میں پہلی بار صدر بنے تھے
،تصویر کا کیپشنرابرٹ مگابے سنہ انیس سو ستاسی میں پہلی بار صدر بنے تھے

صدارتی نتائج کے اعلان سے پہلے وزیر اعظم چنگرائی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’زمبابوے سوگ منا رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی نے ملک کو ایک ’آئینی، سیاسی اور معاشی‘ بحران میں ڈال دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے ایک دستاویز پیش کریں گے اور انھوں نے جنوبی افریقائی تنظیم سادق سے تفتیش کی اپیل بھی کی ہے۔

اس سے پہلے حزبِ اختلاف کے ایک بڑے رہنما روائے بینیٹ نے صدر رابرٹ مگابے کی جماعت کا پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت کے خلاف ’پرامن مزاحمتی‘ مہم چلانے کا کہا تھا۔

حزبِ اختلاف کی جماعت ایم ڈی سی پارٹی کے خزانچی روائے بینیٹ نے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے میں زمبابوے کے عوام سے جن کی ہم نمائندگی کرتے ہیں، کہتا ہوں کہ وہ حکومت کے خلاف پرامن مزاحمت کریں اور ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں۔‘

دارالحکومت ہرارے میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا مسیکو کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے انتخابی معیار کے اعتبار سے یہ انتخابات غیر معمولی رہے۔

اس کے برعکس 2008 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہوئے تشدد میں اپوزیشن جماعت کے تقریبا 200 کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

رابرٹ مگابے 1987 میں پہلی بار صدر بنے تھے۔ 1980 جب زمبابوے کو برطانیہ سے آزادی ملی تھی تو اُس وقت وہ ملک کے وزیرِ اعظم بنے تھے۔