زمبابوے میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات

زمبابوے میں بدہ کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں لوگوں کی کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ملک پر 33 سال تک حکومت کرنے والے موجودہ صدر رابرٹ موگابے نے منگل کو کہا تھا کہ اگر وہ انتخابات ہار گئے تو استعفٰی دے دیں گے۔
ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوگی اور شام پانچ بجے بند ہوگی اور پانچ دن کے اندر نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
حالیہ ہفتوں میں انتخابی جسلے جلوسوں میں لوگوں کی شرکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ووٹروں کی بڑی تعداد ووٹ دینے کے لیے نکلیں گے۔
ہرارے میں بی بی سی کے نامہ نگار برائن ہونگوی کے مطابق انتخابات سے پہلے ماحوال تسبتاً پْرسکون رہا اور منگل کی رات کو دارالحکومت کے بارز میں لوگوں کا ہجوم رہا کیونکہ بدھ کو ووٹنگ کے لیے عام تعطیل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہرارے کے باشندے انتخابات کے موقع پر ووٹنگ سے پہلے سیاسی جماعتوں کے رویے اور 33 سال تک حکومت میں رہنے والے موجودہ صدر رابرٹ موگابے کے ہار جیت پر بحث میں مصروف رہے۔
درین اثنا ملک کے وزیرِاعظم مورگن سوانگیرائی کی جماعت ڈیموکریٹک چینج(ایم ڈی سی) پارٹی نے حکمران جماعت ذانو- پی ایف پر انتخابی فہرستوں میں گڑبڑ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ذانو- پی ایف پارٹی کے ترجمان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستیں زمبابوے الیکشن کمیشن (زیڈ ای سی) کی ذمہ داری تھی جو اس نے انتخابات کے موقع پر جاری کر دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ الیکشن کمیشن دونوں جماعتوں کے نامزد اہلکاروں پر مشتمل ہے ۔
زیڈ ای سی نے حالیہ الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا جنھوں نے انتخابی فہرستیں دیکھیں ہیں کہنا ہے کہ ان میں ہزراوں مرے ہوئے افراد کے نام بھی شامل ہیں اور بعض نام دوسرے شناختی نمبر یا پتے کے ساتھ دو دفعہ دیے گئے ہیں۔
صدارتی انتخابات میں تین اور امیدوار بھی حصہ لے ہے ہیں۔
ملک میں اتنخابی مہم پْرامن رہا اور کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کرنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں ہیں۔
پانچ سال پہلے ہونے والے صدارتی انتخابات میں تشدد سمیت دوسرے بے شمار مسائل پیش آئے تھے۔







