رابرٹ مگابے کی پارلیمان میں بھاری اکثریت

افریقی ملک زمبابوے میں حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات میں صدر رابرٹ مگابے کی جماعت نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
زمبابوے کے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف جماعت نے دو سو نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں ایک سو بیالیس نشستیں حاصل کی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اکثریت سے زانو پی ایف کو آئین میں تبدیلی کا اختیار مل جاتا ہے۔
صارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان ابھی ہونا باقی ہے۔
اس سے قبل زمبابوے میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے افریقی یونین کے مبصر مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انتخابات ’آزادانہ، منصفانہ اور قابلِ اعتماد‘ ہوئے۔
وزیر اعظم مورگن چنگرائے جو صدر رابرٹ مگابے کا مقابلہ کر رہے ہیں نے ان انتخابات کو ’ایک بہت بڑا ڈرامہ‘ قرار دیا۔
ایک مقامی مبصر گروپ کا دعویٰ ہے کہ پولنگ میں بہت بے ضابطگیاں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے ملکی انتخابات پر نظر رکھنے والی ایک مقامی تنظیم کا کہنا تھا کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگيوں کے سبب تقریبا دس لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔
’ زمبابوے الیکشن سپورٹ نیٹورک'‘نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ جن افراد کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گيا اس میں سے بیشتر کا تعلق شہری علاقوں سے ہے جہاں اپوزیشن امید وار مورگن سوائنگیرائی کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
تنظیم کے مطابق اس کے برعکس دیہی علاقوں میں کم ووٹرز کو مسترد کیا گيا جہاں صدر رابرٹ موگابے کے حمایتوں کی تعداد زيادہ ہے۔
ان انتخابات میں ملک کے صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف نے کامیابی کا دعوی کیا ہے جبکہ وزیراعظم مورگن سوئنگیرائی کی ایم ڈی سی پارٹی نے انہیں ایک دھوکہ قرار دیا۔
اس سے پہلے افریقی مبصرین کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز ہونے والے انتخابات پر امن تھے۔
افریقی یونین نے بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ان انتخابات کو پر امن اور ضابطے کے مطابق بتایا ہے۔ انتخابی امور پر نظر رکھنے والی ایک مقامی نے بھی ان انتخابات کو صحیح قرار دیا ہے۔
افریقی یونین کی جانب سے مبصرین کی سربراہی نائیجیریا کے سابق صدر اولیس گن اوباسانجو کر رہے تھے۔
انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارہ روائٹرز کو بتایا کہ انتخابات کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آيا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس میں عوام کی مرضی شامل نہیں تھی۔
دارالحکومت ہرارے میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا مسیکو کا کہنا ہے کہ زمباوے کے انتخابی معیار کے اعتبار سے یہ انتخابات غیر معمولی رہے۔
اس کے برعکس دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہوئے تشدد میں اپوزیشن جماعت کے تقریبا دو سو کارکن ہلاک ہوئے تھے۔
لیکن ملک کے وزیرِاعظم مورگن سوانگیرائی کی جماعت ڈیموکریٹک چینج(ایم ڈی سی) پارٹی نے حکمران جماعت ذانو- پی ایف پر انتخابی فہرستوں میں گڑبڑ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔







