ٹیکسس، اسقاط حمل پر پابندی کا بل منظور

اس بل پر بحث کے دوران ایوان کے باہر اس کے خلاف اور حمایت میں زبردست مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناس بل پر بحث کے دوران ایوان کے باہر اس کے خلاف اور حمایت میں زبردست مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں

امریکی ریاست ٹیکسس میں قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے اس متنازعہ بل کو منظوری دیدی ہے جس میں حمل ٹھہرنے کے بیس ہفتے بعد اسقاط حمل پر پابندی کی بات کہی گئی ہے۔

اس نئے مجوزہ قانون کے تحت اسقاط حمل کے لیے بیشتر ریاستی کلینک بھی بند کر دی جائیں گي۔

ریاستی اسمبلی میں منظوری کے بعد اس بل پر ریاستی سینیٹ میں بھی بحث ہوئی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن نے اپنی طویل تقریر سے اسے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن ریپبلکن ارکان نے اسے منظور کر لیا۔

اس بل میں بیس ہفتے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہی گئی کہ اسقاط حمل سے متعلق پورا عمل صرف سرجیکل کلینکز میں ہی انجام دیا جائیگا۔

لیکن ریاست ٹیکسس میں اسقاط حمل کے لیے صرف چھ کلینکز کو ہی سرجیکل کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ سب ریاست کے بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔

اسقاط حمل کے حامیوں کا موقف ہے کہ حاملہ خواتین کے صحت کے لیے سرجیکل کلینک کا انتخاب کیا گيا ہے جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے اسقاط حمل کے لیے اب خواتین کو بہت زیادہ سفر کرنا پڑیگا۔

اس بل کے خلاف اور حمایت میں زبردست مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن گورنر رکی پیری نے اس پر دستخط کرنے کی بات کہی ہے جس کے بعد ریاست میں یہ باقاعدہ قانون بن جائیگا۔

وینڈی ڈیوس نے بل کو روکنے کے لیے تقریبا گيارہ گھنٹے کی تقریر کی لیکن ناکام رہیں
،تصویر کا کیپشنوینڈی ڈیوس نے بل کو روکنے کے لیے تقریبا گيارہ گھنٹے کی تقریر کی لیکن ناکام رہیں

بحث کے دوران اس بل کی مخالف ڈیموکریٹک رکن وینڈی ڈیوس نے اسے روکنے کی پوری کوشش کی اور تقریبا گيارہ گھنٹے کی تقریر کرکے اسے ایک طرح سے روک دیا تھا۔

لیکن اس بل کے ایک حامی ریپبلیکن رکن پیری نے دوسرے روز اس کا ایک خصوصی اجلاس طلب کرنے کو کہا اور اس طرح اسے منظور کیا گيا۔

امریکی سپریم کورٹ نے سنہ انیس سو تہتّر میں ہی پورے ملک میں اسقاط حمل کی اجازت دیددی تھی لیکن حالیہ برسوں میں اوہائیو، اوکلاہما، الباما اور اریزونا جیسی تقریبا ایک درجن ریاستوں نے اسقاط حمل کے عمل کو محدود کرنے کےلیے مختلف طرح کے قوانین وضع کیے ہیں۔

اس سلسلے میں بعض ریاستوں کے نئے قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا گيا اور وہ عدالتی چارہ جوئی میں اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

اس بل کے متعلق بھی ڈیموکریٹک سینیٹر روڈنی ویسٹ نے اسی طرح کے سوالات اٹھائے اور کہا کہ آخر ریپبلیکنس نے اسی طرح کی پابندیا کیوں لگائي ہیں جن کے خلاف دوسری ریاستوں میں لوگ عدالت پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا '' میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی مقدمے دائر ہوں گے''

ٹیکسس کی میڈیکل ایسو سی ایشن، دی ٹیکسس ہسپتال ایسو سی ایشن اور امریکن کالج آف آبسٹرکٹ اینڈ گائنکولوجی بھی اس بل کے مخالف ہیں۔