چین: درجنوں افراد مٹی کے تودے تلے دب گئے

مٹی کے تودے گرنے سے دو مربع کلو میٹر متاثر ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنمٹی کے تودے گرنے سے دو مربع کلو میٹر متاثر ہوا ہے

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ریاست سیچوآن میں مٹی کے تودے گرنے سے 30 سے 40 افراد تودے تلے دب گئے ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق مٹی کے تودے گرنے کا یہ واقعہ بدھ کی صبح ژونگ شینگ شہر میں پیش آيا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں 100 سے زیادہ امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم موجود ہے۔

واضح رہے کہ مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ اس علاقے میں کئی روز سے جاری طوفانی بارش کا نتیجہ ہے۔

بارش کے سبب چین کا یہ علاقہ سیلاب کی زد میں بھی ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو سیچوآن کے علاقے جیانگ یو میں ایک پل کے ٹوٹ جانے سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دریں اثناء چین کے سرکاری میڈیا پر ڈیانگ فیکٹری کے کارکنوں کے سیلابی ریلے میں بچنے جانے حیرت انگیز مناظر دکھائے گئے ہیں۔

یہ فیکٹری کارکن فیکٹری کے سیلاب میں بہہ جانے کے بعد ایک جگہ پھنس گئے تھے۔

فیکٹری کے ایک ملازم ویئی زیاؤ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’پانی کی سطح اس قدر زیادہ تھی کہ گاڑیاں، فورک لفٹر اور کھدائی کرنے والی مشینیں بھی سیلاب میں بہہ گئیں۔‘

زنہوانے خبر دی ہے کہ مٹی کے تودے گرنے کے اثرات دو مربع کلومیٹر تک ہوئے جن میں کم از کم 11 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک مقامی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق گیارہ خاندانوں کے افراد اس کے نیچے دفن ہو گئے ہیں جبکہ قریب 200 رہائشیوں کو بچا لیا گیا ہے۔‘

دوجیانگ یانگ میں امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب وہ مٹی کے تودے گرنے کے واقعے کے چند گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچے تو ہر چیز پانی کی زد میں تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہاڑ سے پتھروں اور ملبے کو نیچے گرتے ہوئے دیکھا اور تین منٹ کے اندر ہی اس نے قریب آٹھ مکانات کو اپنی زد میں لے لیا تھا۔

گزشتہ روز منگل کو سیشوان کے جیانگ یو میں ایک پل کے ٹوٹ جانے سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے
،تصویر کا کیپشنگزشتہ روز منگل کو سیشوان کے جیانگ یو میں ایک پل کے ٹوٹ جانے سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے

سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ علاقے میں امدادی ٹیم کو تعینات کر دیا گیا ہے اور وہ شنگ لیان پل کے ٹوٹنے کی وجہ سے پانی میں بہہ جانے والے لوگوں کو تلاش کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیز بارش میں پھنس کر کم از کم چھ گاڑیاں ندی میں بہہ گئی ہیں۔

مقامی سرکاری حکام کے مطابق منگل کو اچانک ندی میں پانی کی سطح گزشتہ 50 سال میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیانگ یو اور ڈیانگ شہر میں بھی ایک پل بہہ گئے ہیں۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ تیز بارش کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ قریب 300 گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور 36800 افراد کو مکان خالی کرنا پڑا ہے۔